Tuesday, 31 August 2021

مالدہ کالونی میں شیخ آصف کا ہنگامی دورہ ، کارپوریشن حکام کو فوری طور پر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات

معصوم بچی پر خونخوار کتوں کا حملہ ، بچی شدید زخمی ، شیخ آصف کے نام واٹس ایپ پر آڈیو وائرل



مالدہ کالونی میں شیخ آصف کا ہنگامی دورہ ، کارپوریشن حکام کو فوری طور پر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات


مالیگاؤں، 31 اگست (پریس ریلیز) مالدہ کالونی بلڈنگ نمبر 28، کھولی نمبر چھ کی 12 سالہ معصوم بچی پر کتوں نے حملہ کردیا جس سے بچی کے جسم پر گہرے زخم ہوئے ۔تفصیلات کے مطابق یہ بچی دوپہر ساڑھے تین بجے مدرسہ سے واپس اپنے گھر آرہی تھی کہ راستے میں خونخوار کتوں نے بچی پر حملوں کردیا جس میں بچی شدید زخمی ہوگئی ۔بچی کے ہاتھ، پیرس اور پیٹھ وغیرہ متاثر ہوئے ہیں ۔اسے علاج کیلئے اسپتال میں داخل کروایا گیا ہے ۔اس بچی کو کتوں کے کاٹنے والی اطلاع واٹس ایپ پر شیئر کی گئی جس میں سابق ایم ایل اے آصف شیخ کے نام سے پیغام جاری کیا گیا کہ اس اطلاع کو شیخ آصف تک پہنچایا جائے ۔اس حادثہ کی اطلاع ملتے ہی آصف شیخ رشید نے مالدہ کالونی کا ہنگامی دورہ کیا ۔موصوف نے اپنے ساتھ کارپوریشن کے آفیسران کو بھی دورہ میں شامل کیا اور موقع واردات پر پہنچ کر کارپوریشن حکام کو درکار ضروری بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات دی ۔

جنتادل سیکولر کا صدارتی اجلاس لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا، کئی سرکردہ شخصیات، نوجوانوں و کلبوں اداروں کا جنتادل سیکولر میں شمولیت کا امکان

جنتادل سیکولر کا صدارتی اجلاس لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا، کئی سرکردہ شخصیات، نوجوانوں و کلبوں اداروں کا جنتادل سیکولر میں شمولیت کا امکان

ادارہ القاسم کی جانب سے منعقد میٹنگ میں کئی اداروں کی شرکت
گذشتہ دنوں کرانتی دن کے موقع پر جیسے ہی جنتادل سیکولر کی جانب سے صدر کے انتخاب کا اعلان ہوا مانو جیسے شہر بھر میں انقلاب (کرانتی) کی لہر دوڑ پڑی. نوجوان نسل، تعلیم یافتہ و شہر کی بھلائی کی سوچ و فکر رکھنے والے سرکردہ افراد کو ایک اُمید بندھ گئی کے بدعنوانی، ظلم زیادتی، فرقہ پرستی، غنڈہ گردی، نشیلی ادویات کی فروختگی، عوام کے گاڑھے پسینے کی لوٹ مار کے خلاف ماضی میں ساتھی نہال احمد صاحب کے وقت کی طرح شہر میں اب ضرور ایک انقلاب (کرانتی) لانے کا کام جنتادل سیکولر کا نومنتخب صدر کرے گا. چونکہ اعلان کے مطابق 3 ستمبر بروز جمعہ بنکر لانس انصار جماعت خانے میں ایک اجلاس میں جنتادل سیکولر کے صدر کا انتخاب عمل میں آئے گا.اس اجلاس کو کامیاب بنانے اور جنتادل سیکولر کی طاقت کا دائرہ وسیع کرنے کی سوچ و فکر کے ساتھ کل رات 10 بجے حبیب لانس میں ادارہ القاسم کے روح رواں فعال سماجی خادم مسیح اللہ بیسٹ و عہدیداران، اراکین کی جانب سے میٹنگ رکھی گئی. جس میں حسن پورہ، عبداللہ نگر، گولڈن نگر، رضا پورہ، نئی بستی کے درجنوں اداروں کلبوں نے اور اہم شخصیات نے شرکت کی. میٹنگ کی صدارت جناب صادق بھائی (صدر الفراز سوسائٹی) نے ادا کی. مذکورہ میٹنگ میں صابر ٹیلر، مدثر حسین گڈو، صغیر آرٹس، شکیل کیسٹ والے، محمد وائرمین، محمود خالو، رضوان ہلال، باقر خان، امان اللہ، نوید راجہ، محمد سلطان تانے ماما، شہزاد ماسٹر، انیس سائیکل والے، امتیاز مکھن حاجی، علی حسن، انیس احمد (صدر الوطن سوسائٹی)، عتیق ہوٹل والے اینڈ گروپ، حبیب ہوٹل والے اینڈ گروپ، شیخ انیس مستری، عبدالرحمن انصاری، انصاری ابو شعیب نہالی، افتخار راشن والا، ابولیث انصاری، آفتاب عالم، عرفان کرسٹل، زبیر انصاری، شید ناصر، انس گلکسی، ساجد بھائی، اسماعیل بھائی، فیروز رچھ بھر، حنان سرکار، صدام بیگ، شارق عثمانی، ھارون ماسٹر، ساجد ہوٹل والے، خالد ماسٹر، امین کے پی، نفیس راجہ، فہیم احمد، شفیع اللہ، عمیر ملک، توحید، رمضان عباس کے علاوہ 7 رکنی جائزہ کمیٹی کے اراکین *ایڈوکیٹ خلیل احمد انصاری صاحب، حاجی عبدالرشید سیٹھ ایولے والے (سابق اولین ڈپٹی مئیر)، ڈاکٹر فیروز (سفینہ میڈیکل)، ناصر خان (کرانہ والے)، بھیا لال شاہ (سابق کارپوریٹر)، سہیل عبدالکریم، عارف حسین پاپاحاضر تھے. میٹنگ میں مہمان خصوصی کے طور پر جنتادل سیکولر کے نوجوان وکالت کی ڈگری رکھنے والے، دوراندیشی و حکمت سے اپنی بات منوانے والے سرگرم لیڈر ساتھی مستقیم ڈگنیٹی صاحب موجود تھے. مقررین سہیل عبدالکریم، مدثر حسین گڈو، ایڈوکیٹ خلیل احمد انصاری صاحبان نے اپنی تقاریر میں جنتادل سیکولر کی ماضی کی کارکردگی، حالیہ سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے 3 ستمبر کو ہونے والے جنتادل سیکولر کے صدر کا اجلاس کس طرح کامیاب ہو اس کا لائحہ عمل طئے کیا گیا ساتھ ہی مزید افراد کو جوڑنے کیلئے غور و خوض کیا گیا. میٹنگ کے اختتام کے بعد ادارہ القاسم کی جانب سے عشائیہ کا نظم کیا گیا تھا

مزدور بورڈ میں رجسٹریشن کو لے کرسیٹو افس میں گانٹھ پیکنگ ورکرس کی اھم میٹنگ سیٹو یونین اور گانٹھ پیکنگ ورکرس کے ذمہ دار کا اظہار خیال

مزدور بورڈ میں رجسٹریشن کو لے کرسیٹو افس میں گانٹھ پیکنگ ورکرس کی اھم میٹنگ 
سیٹو یونین اور گانٹھ پیکنگ ورکرس کے ذمہ دار کا اظہار خیال
    
مرکزی حکومت کے یسرم رجسٹریشن کا کام انلائن طریقہ سے جاری ہوگیا ہیں  
 رجیسٹریشن کےلے بیداری لانے کےلے بروز اتوار دوپہر 12:00 بجے قدوائی روڈ CITU سیٹو افس پر مالیگاوں گانٹھ پیکنگ ورکرس کی میٹنگ ہوئی 
میٹنگ کے مقاصد رفیق شاہ نے بیان کئے 
میٹنگ میں موجود سیٹو یونین کے ذمہ دار رمیس جگتاپ اور اظہر خان نے کامگار منتری حسن مشرف کے ساتھ منترالے میں  ہوئی اپنی میٹنگ کی معلومات پیکنگ ورکرس کو دی اور بورڈ بنانے کےلے سیٹو یونین کی برسوں کی کوشش کو تفصیل سے بیان کیا     
 پیکنگ ورکر یونین صدر انوار خان نے میٹنگ میں موجود پیکنگ ورکرس سے رجسٹریشن کرنے کی گذارش کی جس کی وجہ سے مزدور کو مرکزی حکومت سے بہت سے فائدے ملیگے 
جسے سالانہ 5000/7000 ہزار روپیہ بونس / مزدور کے بچوں کی شادی / ڈیلیوری/بیماری وغیرہ اسی کے ساتھ سب سے بڑا فائدہ یہ کے مزدور کا رجسٹریشن حکومت کے مزدور بورڈ میں ہوجائیگا 
مستقبل میں سرکار کی کسی بھی اسکیم سے  فائدہ
پیکنگ ورکرس یونین کے جنرل سیکرٹری اکبر خان نے تمام ورکرس سے حکومت کے بورڈ میں رجسٹریشن کے ساتھ مالیگاوں گانٹھ پیکنگ ورکرس یونین  کی جن ممبروں نے اب تک  ممبر سپ حاصل نہیں کی ہیں ایسے تمام ممبر جلد سے جلد یونین کے ذمہ داروں سے ملکر اپنی ممبر سپ حاصل کرلے
اور یونین کو مضبوط کرنے کےلے اپنی ذمہ داری ادا کرئے
 سیٹو کےاظہر خان نے میٹنگ میں موجود پیکنگ ورکر سے  گذارش کی کے اپنے ساتھ ساتھ مالیگاوں کے ایسے تمام مزدور جن کی عمر 16 سے 59 سال کے درمیان ہو  ان میں رجسٹریشن کےلے بیداری لانے میں سیٹو یونین کا ساتھ دے
سیٹو افس میں ہوئی میٹنگ میں بڑی تعداد میں پیکنگ ورکرس موجود تھے
 دونوں  یونین کے ذمہ داروں میں مشرف خان جعفر سیدسلطان شیخ وسیم وغیرہ موجود تھے

شہر کی عوام نے کارپوریشن پر اقتدار کرنے والی تمام پارٹیوں کو آزمایا ۔۔۔ لیکن عوام کو دھوکہ پر دھوکہ ملتا رہا

شہر کی عوام نے کارپوریشن  پر اقتدار کرنے والی تمام پارٹیوں کو آزمایا ۔۔۔ لیکن عوام کو دھوکہ پر دھوکہ ملتا رہا 

لیکن جنتادل سیکولر ہی ایک واحد پارٹی رہی جو عوامی حقوق کیلئے بدعنوانوں سے  لڑھتی رہی
 آج شہریان کا اعتماد جنتادل سیکولر ۔۔اور ساتھی نہال احمد صاحب کا اصول


از ✍🏻 قلم :~ شیخ انیس مستری

ساتھی نہال احمد صاحب نے کارپوریشن کے ڈھائی برس میئر رہتے ہوئے ایک تاریخ رقم کی ۔۔۔۔۔۔۔ 

ساتھی نہال احمد صاحب کے دور میں کارپوریٹر ٹھیکے داری کرنے کی ہمت نہیں کرتے تھے انھیں چور کہا جاتا تھا ۔۔۔۔ 
ساتھی نہال احمد صاحب کے اقتدار کا خاتمہ کرنے کیلئے فرقہ پرست طاقتوں نے چور,  لٹیرے , الٹر بازوں , جاہلوں , اور بدعنوانوں کا سہارا لیا اور شہر کی تعمیرو ترقی میں رکاوٹ بن بیٹھے ۔۔۔ 

آج کارپوریشن میں عوام کے چاہتے ہوئے بھی IAS افسر نہیں آسکتا , اگر حکومت کی جانب سے کوئی سخت آفیسر بھیجنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تب فرقہ پرست طاقتیں سرگرم عمل ہوجاتی ہے اور شہر کی تعمیرو ترقی میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے بدعنوانیوں میں ملوث ٹھیکے دار برسرِ اقتدار ٹولہ جو کہ کارپوریشن کی ستہ پہ بیس برسوں سے قابض ہے وہ نہیں چاہتے کہ شہر میں کوئی ون کلاس افسر آئے اور شہر کی تعمیرو ترقی ہو ۔۔۔ 

برسرِ اقتدار ٹولہ راستوں کے پیچ ورک کے نام پر ہی کروڑوں روپیوں کی لوٹ کھسوٹ کرنے میں ماہر ہے ۔۔ 

اگر راستے ہی اچھے اور پختہ بن جائے تو انھیں پیچ ورک کے نام پر بار بار کروڑوں کی کمائی نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔ 

تعمیرو ترقی کے  لحاظ سے مالیگاؤں اسمبلی سنٹرل حلقہ فرقہ پرست طاقتوں کی زد پر 

کارپـــــــوریـــــشن کا وہ برسرِ اقتدار ٹولہ جو کہ کارپوریشن کے وجود سے لیکر آج تک کارپـــــــوریـــــشن کی ستہ سے لپٹا ہوا ہے یہی وہ لوگ ہے جو اپنے اقتدار کیلئے , اپنے مفاد کیلئے  , ٹھیکے داریوں , کے نام پر  کارپوریشن کے ذریعے لوٹ کھسوٹ کا موقع ملے ایسے ہی لوگوں نے 80 فیصد ٹیکس بھرنے والی مسلم آبادی کے ساتھ غداری کرتے ہوئے فرقہ پرستوں کو طاقت پہنچائی ہیں

کارپوریشن الیکشن کی آمد سے پہلے شہر کی عوام کیلئے منصوبہ بند سازش کے تحت جال بچھایا جاتا ہے 
اور شہر کی عوام کے نا چاہتے ہوئے بھی  کارپوریشن کے اقتدار کو فرقہ پرست طاقتوں کی حمائت حاصل کرلیا جاتا ہے ۔۔۔ 
اور پھر مسلسل پانچ برسوں تک کارپـــــــوریـــــشن کی املاک کی لوٹ کھسوٹ کی جاتی ہے ۔۔۔۔ 
اور یہی طاقتیں کارپوریشن الیکشن سے  کچھ عرصہ قبل فرقہ پرست پارٹیوں کا نام لیکر شہر کے مسلمانوں کو ڈرایا جاتا ہے بے وقوف بنایا جاتا ہے لیکن ٹھیک کارپوریشن الیکشن کا نتیجہ نکلنے کے بعد شہر کی عوام کو بھول جاتے ہے اپنے کئے ہوئے وعدے بھی بھی جاتے ہے اور جن پارٹیوں کو شجر ممنوعہ قرار دیا جاتا ہے پھر اسی کی گود میں بیٹھ کر شہر کی عوام کو پانچ برسوں تک خون کے آنسوں رلایا جاتا ہے ۔۔۔۔۔
پھر آنے والے الیکشن کے پہلے شہر کی عوام کو پھانسنے کیلئے نیا جال بنا جاتا ہے ۔۔

اور یہی سلسلہ در سلسلہ جاری ہے ۔۔۔ 

اور جنتادل سیکولر ہی شہر میں ایک واحد پارٹی ہے جو ان چوروں اور بدعنوانوں کی سخت مخالفت کرتے ارہے ہیں ۔۔۔ اور آج شہر کی عوام میں ان مفاد پرستوں کو پہچھان گئی ہے ۔۔ اور جنتادل سیکولر پر شہریان کا اعتماد اور جنتادل سیکولر کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے بدعنوانوں اور ٹھیکے داروں کی نیندیں حرام کر رکھی ہے اور کچھ لوگ ہمیشہ کی طرح ملی جوڑ لڑھتے ہوئے شہریان کو بے وقـــوف بنانے میں لگے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

17 ستمبر کو راشٹروادی کانگریس پارٹی کے نومنتخب صدر آصف شیخ سمیت تمام ونگ و سیل کے عہدیداران کو عظیم الشان استقبالیہ

17 ستمبر کو راشٹروادی کانگریس پارٹی کے نومنتخب صدر آصف شیخ سمیت تمام ونگ و سیل کے عہدیداران کو عظیم الشان استقبالیہ


شہید عبدالحمید  روڈ کے 50 سے زائد اداروں، کلبوں کی حمایت، پارلیمنٹ چناؤ کے اعلان کا خلاصہ اور موجودہ سیاسی صورت حال پر شیخ آصف کا خطاب ہوگا


مالیگاؤں : 30 اگست (پریس ریلیز) مالیگاﺅں شہر ضلع راشٹروادی کانگریس پارٹی کے صدر آصف شیخ رشید سمیت تمام ونگ و سیل کے صدور و عہدیداران کا استقبال کرنے کیلئے 17 ستمبر کو شہید عبدالحمید پر روڈ المعروف کسمبا روڈ پر نہال نگر پولس چوکی کے پاس ایک اجلاس کا انعقاد کیا جارہا ہے اس طرح کی معلومات پروگرام کے کنوینر  شیخ آصف  باردان والے اور فاروق بھائی گنیش نگر نے دی اور بتایا کہ اس استقبالیہ اجلاس کی صدارت اخلاق شاہ صاحب کریں گے جبکہ استقبالیہ کمیٹی کے صدر  شیخ ابراہیم موڑ والے صاحب ہونگے ۔جبکہ اس اجلاس میں آصف شیخ رشید کو راشٹروادی کانگریس پارٹی کی صدارت ملنے پر انکا استقبال اور اسی طرح تمام ہی نو منتخب صدر و عہدیداران کا استقبال کیا جائے گا ۔اس سلسلے میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے رابطہ کار شکیل جانی بیگ نے بتایا کہ اس پروگرام میں آصف شیخ رشید کی شعلہ بیاں تقریر بھی ہوگی جس میں موصوف موجودہ سیاسی صورتحال اور کارپوریشن الیکشن سے لیکر اسمبلی و پارلیمنٹ چناؤ میں حصہ لینے کے سنسنی خیز اعلان کا خلاصہ بھی آصف شیخ کریں گے ۔اس پروگرام کے  صاحبان اعزاز میں محترم جناب آصف شیخ رشید صاحب (صدر مالیگاؤں شہر ضلع راشٹروادی کانگریس پارٹی) ،محترم جناب اجو شیخ لہسن والا صاحب ،محترم جناب انصاری محمد عاصم راکی صاحب، محترم جناب منموہن شیوالے صاحب ، محترم جناب آننت بھونسلے صاحب ،محترم جناب اعجاز عمر صاحب، محترم جناب شاہد ریشم والا، محترم جناب شکیل شاہ صاحب، یاسمین سید صاحبہ، شاہین انصاری صاحبہ، ایڈوکیٹ سوچیتا سونونے صاحبہ ، محترم جناب ریاض علی صاحب، محترم جناب انصاری شفیق احمد باکسر صاحب، محترم جناب انصاری ندیم پھنی والا صاحب، محترم جناب جہانگیر خان صاحب، محترم جناب عبدالمنان بیگ ،محترم جناب جاوید خان صاحب، محترم جناب غازی مظفر خان صاحب، محترم جناب انصاری عزیز الرحمان صاحب، محترم جناب رشید شاہ صاحب، محترم جناب  نثار بھنگار والا صاحب، محترم جناب انصاری محمد آصف صاحب، محترم جناب شیخ عبدالقیوم رنگیلا صاحب کا اعزاز کیا جائے گا استقبالیہ اجلاس کو کامیاب کرنے کیلئے شہید عبدالحمید پر روڈ کے اطراف کے 50 سے زائد اداروں، کلبوں نے اپنی حمایت دی ہیں اور تیزی سے پروگرام کی تیاری جاری ہیں ۔اس سلسلے میں پروگرام کو حتمی شکل دینے کیلئے این سی پی بھون پر پروگرام کے کنوینر شیخ آصف باردان والے اور فاروق بھائی گنیش نگر و استقبالیہ کمیٹی کے ذمہ داران نے آصف شیخ سے ملاقات کی اور پروگرام کی تاریخ کا اعلان کیا ۔

Monday, 30 August 2021

آگرہ روڈ کے شمالی حصہ میں 7 رکنی جائزہ کمیٹی سرگرم

آگرہ روڈ کے شمالی حصہ میں 7 رکنی جائزہ کمیٹی سرگرم

3 ستمبر کو ہونے والے جنتادل سیکولر کے صدارتی انتخاب کیلئے سرکردہ شخصیات سے ملاقاتوں کا سلسلہ دراز
مالیگاؤں جنتادل سیکولر کی صدارت کیلئے 3 ستمبر بروز جمعہ بنکر لانس انصار جماعت خانے رات 7 سے 10 بجے تک ایک اجلاس منعقد کیا گیا ہے. پارٹی کی کمان کون سنبھالے گا؟؟؟ صدر کے لئے کون عوامی رائے جاننے کیلئے 7 رکنی جائزہ کمیٹی سنیچر کو روی وار، گرووار وارڈ میں دورہ کئے. جہاں عوامی دلچسپی اتنی تھی کے لوگوں نے کمیٹی کے اراکین کا استقبال کرتے ہوئے مفید مشورے سے نوازا. 
               کل بروز اتوارکو تشکیل کردہ 7 رکنی جائزہ کمیٹی آگرہ روڈ کے شمالی حصہ میں کارپوریٹر عبدالباقی راشن والا، عتیق لوکھنڈ والا، انیس سرتاج، ڈاکٹر ریحان، جاوید انور، یوسف الیاس، دال پہلوان، ڈاکٹر ارشد، نثار مقادم، مختار بھنگار والے، اسلم شاہ وغیرہ سرکردہ شخصیات سے ملاقات کی. کمیٹی نے تمام اہم شخصیات سے رائے جنتادل کی صدارت سے متعلق رائے طلب کی. کمیٹی کے اراکین کا خلوص سے استقبال کیا گیا لوگوں نے اپنی رائے، جذبات، و مشورے سے نوازتے ہوئے 3 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں جوش و خروش کے ساتھ شریک ہونے کا ارادہ ظاہر کئے. 7 کمیٹی کے اراکین ایڈووکیٹ خلیل احمد انصاری، رشید سیٹھ ایولے والے، ڈاکٹر فیروز، ناصر خان، بھیا لال شاہ، عارف حسین پاپا نے لوگوں کا شکریہ ادا کیا.

مالیگاؤں ہائی اسکول کیمپس کو سینیئر کالج کی منظوری ، انجمن معین الطلباء کی جدوجہد کا ثمرہ

مالیگاؤں ہائی اسکول کیمپس کو سینیئر کالج کی منظوری ، انجمن معین الطلباء کی جدوجہد کا ثمرہ 


تشنگان علم کیلئے خوشخبری ، اب مالیگاؤں ہائی اسکول کیمپس میں KG سے گریجویشن تک تعلیم کا نظم 


یکم ستمبر مالیگاؤں سینیئر کالج آف آرٹس ، سائنس اینڈ کامرس میں  داخلہ کا آغاز ، 



مالیگاؤں : 29 اگست (بیباک نیوز اپڈیٹ) تین سال کی جدوجہد کا ثمرہ رہا ہے کہ آج ہمیں بڑی محنت و مشقتوں کے بعد مالیگاؤں سینیئر کالج آف آرٹس سائنس اینڈ کامرس کی منظوری حاصل ہوگئی ہیں ۔اس کالج کی منظوری کیلئے ہمیں چالیس سے زائد مرتبہ ممبئی کا چکر کاٹنا پڑا اور مجبوراً ہمیں قانونی لڑائی لڑنی پڑی تب کہیں ہمیں کامیابی حاصل ہوئی ہیں ۔اسطرح کا اظہار خیال انجمن معین الطلباء کے چیئرمین اسحاق سیٹھ زری والا نے مالیگاؤں ہائی اسکول کیمپس میں طلبیدہ پر ہجوم پریس کانفرنس سے کیا ۔موصوف نے کہا کہ اب مالیگاؤں ہائی اسکول کیمپس میں پری پرائمری سے لیکر گریجویشن تک تعلیم کا خواب پورا کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ یہ خبر سے شہر عزیز کے تعلیمی حلقوں کیلئے کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔ یقیناً اس خبر سے شہر کی تعلیمی فضا خوشگوار ہوگئی ہیں۔ انجمن معین الطلباء کے زیر اہتمام جاری تعلیمی اداروں میں مزید ایک یونٹ کا اضافہ ہوا ہے ۔اس سلسلے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انجمن معین الطلباء کے چیئرمین اسحاق سیٹھ زری والا نے تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ آج مسلمانوں کو اپنے وجود اور حق کیلئے کتنی جدوجہد اور تکالیف برداشت کرنا پڑتی ہیں اسکے باوجود بھی مسائل سر ابھارتے رہتے ہیں لیکن جو تھک کر بیٹھ گیا وہ ہار گیا اور جو مسلسل جستجو میں لگا رہتا ہے اسے کامیابی حاصل ہوتی ہیں ۔موصوف نے کہا کہ آج ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے مسرت ہورہی ہیں کہ مالیگاؤں ہائی اسکول کیمپس میں پری پرائمری، پرائمری، ہائی اسکول و جونیئر کالج، گرلس و بوائز بحسن خوبی جاری ہے اور الحمد للہ اب ہم یکم ستمبر سے مالیگاؤں سینیئر کالج آف آرٹس سائنس اینڈ کامرس کا آغاز کررہے ہیں ۔انہوں نے نے بتایا کہ مہاراشٹر سرکار نے مہاراشٹر پبلک ایڈمیشنٹریشن ایکٹ کے تحت سینئر کالج کیلئے عریضہ طلب کیا تھا اور تین سال قبل ہم نے اس کی خانہ پری کرتے ہوئے اپلیکیشن جمع کروایا لیکن سرکار نے ہماری عرضداشت کو کیوں نامنظور کیا اسکی اطلاع بھی نہیں دی۔اسحاق سیٹھ نے کہا کہ 2018 - 19 میں ریاست میں برسر اقتدار بی جے پی سرکار نے ہمیں صاف طور پر کہہ دیا کہ ہم مسلمانوں کو کچھ دینا نہیں چاہتے اس لئے آپ کو سینئر کالج نہیں مل سکتی ۔اسکے بعد ہم نے کورٹ کا راستہ اختیار کیا تب سرکار کی متعلقہ وزارت نے ہمیں پھر ایک بار سبز باغ دکھایا اور ہمیں کورٹ سے عرضداشت واپس لینے کہا اور اسکے بعد بھی ہمارے اپلیکیشن کو سرکار نے منظور نہیں کردیا ۔ اسحاق سیٹھ نے یہ بھی بتایا کہ ہم نے نوٹیفیکیشن کے مطابق یونیورسٹی آف پونہ کو اپلیکیشن کیا اور ان سب اپلیکیشن کو مہاراشٹر سرکار نے جانچ پڑتال کے بعد جو اہل اور درست اپلیکیشن تھا اسے منظور کرنا ضروری تھا لیکن مالیگاؤں کے اس دیرینہ مطالبہ کو نامنظور کردیا گیا ۔تب ہم نے ایڈوکیٹ یوسف مچھالہ کے توسط سے ممبئی ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی ۔اس پریس کانفرنس میں ایڈووکیٹ مصدق انصاری نے بتایا کہ ہم نے کورٹ میں اپیل دائر کرتے وقت اس بات کی نشاندہی کی کہ ہمارے عریضہ کو کس بنیاد پر نامنظور کیا گیا اور دوسرے اداروں کو کیوں منظور کیا گیا۔؟ مصدق انصاری نے بتایا کہ انجمن معین الطلباء نے پونہ یونیورسٹی اور مہاراشٹر سرکار و رینوکا دیوی ایجوکیشن سوسائٹی اور ڈاکٹر منظور حسن ایوبی کالج کے مقابل کورٹ میں دلیل پیش کی اور سوال کیا کہ میرٹ کی بنیاد پر کالج منظور کرنے کا کیا پیمانہ ہوتا ہے؟ اسکی وضاحت کی جائے تب کورٹ نے سرکار کو دوبارہ منظوری کیلئے آٹھ ہفتوں کا وقت دیا اور بلا آخر میرٹ کی بنیاد پر انجمن معین الطلباء کو کامیابی ملی جو کہ ایک عدالتی کارروائی کا نتیجہ ہے ۔اس پریس کانفرنس میں سینیئر کالج کوآرڈینٹر ضیاء الرحمن زری والا نے داخلے کا مرحلہ و دیگر معلومات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مالیگاؤں سینئر کالج کو تینوں فیکلٹی کی منظوری حاصل ہوئی ہیں ۔آرٹس سائنس اور کامرس کی فی کلاس میں 120 اسٹوڈنٹس کے داخلے کی اجازت دی گئی ہیں ضرورت پڑھنے پر ہم مزید سیٹ کی اجازت حاصل کریں گے انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کی گائیڈ لائن کی روشنی میں یہ کالج جاری کیا جارہا ہے ۔یکم ستمبر بروز بدھ سے داخلہ کا عمل شروع ہوگا ۔ اس پریس کانفرنس میں انجمن معین الطلباء کے چیئرمین اسحاق سیٹھ زری والا، سیکرٹری سراج دلار سر، جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر عرفان رحمانی، رکن انجمن ڈاکٹر افتخار احمد، عبدلاقیوم سیٹھ، حاجی انیس الرحمن، صالح ابن تابش، راشد برکتی کے علاوہ سینیئر کالج کوآرڈینٹر ضیاء الرحمن زری والا، محفوظ الرحمن زری والا، مالیگاؤں ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر زاہد حسین سر، مالیگاؤں گرلس کے ھ ہیڈ ہمدانی ریحان سر، ارم و پی ایم رحمانی اسکول کے نگران مختار قریشی سر، جونیئر کالج کے انچارج بختیار آصف سر، اشفاق جعفر سر، رئیس کلرک وغیرہ ذمہ داران موجود تھے ۔

स्वातंत्र्य सैनिक उद्यान येथील ४६ लक्ष रुपयांच्या विकास कामांच्या प्रस्तावाला मनपा महासभेने मंजुरी दिल्याबद्दल मनःपूर्वक आभार

स्वातंत्र्य सैनिक उद्यान येथील ४६ लक्ष रुपयांच्या विकास कामांच्या प्रस्तावाला मनपा महासभेने मंजुरी दिल्याबद्दल मनःपूर्वक आभार 
   गेल्या अनेक महिन्यांपासून संबधित कामासाठी सदोदित पाठपुरावा सुरू होता. अमृत रिफर्म मध्ये कामाचा समावेश करण्याचा प्रस्ताव अंतिम टप्प्यात आला असता निधी वितरित करण्याची कायदेशीर अडचण निर्माण झाली. मनपा व शासन यांच्याकडून कोरोना काळात कामास मंजुरी मिळू शकली नव्हती. उशिरा का होईना आज नगर उथान योजनेत सहभागी करण्याच्या मनपा प्रशासनातर्फे सादर विषयाला मंजुरी मिळाली.
        स्वातंत्र्य सैनिक उद्यान विकास  कामास मंजुरी देऊन मालेगाव महानगर पालिकेच्या हद्दीत भारत स्वातंत्र्य संग्रामात योगदान देणाऱ्या थोर क्रांतिकारकांचे स्मारक विकसित करण्यास वाट मोकळी झाली. त्याबद्दल मनपा प्रशासनाचे व मनपा महासभेचे मनःपूर्वक आभार व्यक्त करतो.
     स्वातंत्र्य सैनिक उद्यान विकास कामांचे खरे श्रेय पत्रकार मित्रांचे असून आपण वेळोवेळी बातम्या प्रसिद्ध करून मनपा प्रशासनाचे लक्ष वेधले त्यामुळेच हा विषय महसभेपुढे आला व मंजुरी मिळाली त्याबद्दल आपले हि आभार

  निखिल बाळासाहेब पवार
सदस्य, अखिल भारतीय स्वातंत्र्य सैनिक उत्तराधिकारी संघटना नवी दिल्ली

شہر میں ڈینگو ،ملیریا، ٹائیفائیڈ اور وائرل انفیکشن کا زور، کارپوریشن فوری طور پر طبی خدمات میں اضافہ کرے

شہر میں ڈینگو ،ملیریا، ٹائیفائیڈ اور وائرل انفیکشن کا زور، کارپوریشن فوری طور پر طبی خدمات میں اضافہ کرے


میونسپل اسپتالوں میں طبی عملہ، ادویات ،انجیکشن کا انتظام اور شہر بھر جراثیم کش دواؤں کا چھڑکاؤ کیا جائے

آصف شیخ کی قیادت میں کارپوریشن کمشنر سے مطالبہ، این سی پی وفد کی ڈپٹی کمشنر سے ملاقات

مالیگاؤں، 30 اگست (پریس ریلیز) مالیگاﺅں شہر میں ڈینگی، ملیریا،ٹائیفائیڈ اور وائرل انفیکشن جیسی بیماری بڑی تیزی سے پھیل رہی ہیں ان بیماریوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اقدامات کیئے جائیں ۔شہر میں ڈینگی ، ملیریا، ٹائیفائیڈ اور وائرل انفیکشن کے بہت زیادہ ہیں۔  جس سے عوام ذہنی و جسمانی  تکلیف میں مبتلا ہے۔  کارپوریشن کی ملکیت والے ہسپتال میں مندرجہ بالا بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی بڑی تعداد دیکھی گئی ہے۔ ایسی صورت حال میں ، مالیگاؤں میونسپل ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مالیگاؤں کے علی اکبر ہسپتال ، واڈیا ہسپتال اور دیگر ہسپتالوں میں مناسب عملہ ، ادویات کا اسٹاک فراہم کرے. اسطرح کا مطالبہ راشٹروادی کانگریس پارٹی کے صدر آصف شیخ نے میونسپل کارپوریشن کے کمشنر سے کیا ہے موصوف نے آج ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ کارپوریشن شہر بھر میں جراثیم کش دواؤں کا چھڑکاؤ کرے ، صفائی اور حفظان صحت کو برقرار رکھے ، روزانہ پینے پانی کی فراہمی اور تمام فلٹر پلانٹس پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔  اس کام میں ہمیں کارپوریشن کی ملکیت تمام ہسپتالوں کو کنٹرول اور مانیٹر کرنے کے لیے ایک افسر مقرر کرنا چاہیے اور مذکورہ امراض پر توجہ دینا چاہیے۔ اس وفد میں آصف شیخ، شکیل جانی بیگ اور عبدالقیوم وغیرہ شریک تھے ۔

مردہ کارپوریشن، بے حس لیڈران، شہر کی قسمت پر افسوس

مردہ کارپوریشن، بے حس لیڈران، شہر کی قسمت پر افسوس
محمد عارف نوری
(صدر حفاظت گروپ مالیگاؤں) 
(پریس ریلیز) اسمبلی الیکشن سے قبل تمام لیڈران کی باتیں سننے کے بعد ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے پورے مالیگاؤں شہر میں سونے چاندی کی سڑکیں بنائی جائے گی ہر محلّے میں بچوں کے لیے گارڈن، ہاسپٹل، کالج ہونگے اور مزدوروں کو شاید گھر بیٹھے مزدوری پہنچادی جائے گی بے روزگاروں کو روزگار مہیا کروایا جائے گا وغیرہ وغیرہ مگر افسوس مردہ کارپوریشن اور بے حس لیڈران پر! قلبِ شہر کی انتہائی مصروف ترین سڑک آگرہ روڈ جسے ہمیشہ صرف اپنی بینک بیلنس کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے تمام لیڈران صرف اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں کسی بھی لیڈر نے اس روڈ کے ساتھ انصاف نہیں کیا ہر مرتبہ گھٹیا کوالٹی کا کام، پیچ ورک کے نام پر بِل نِکال لیا جاتا ہے عوام کے پیسوں کو کُھلے عام لوٹا جاتا ہے آگرہ روڈ کا کام انتہائی سست رفتاری سے جاری ہے ایسا لگتا ہے جیسے کارپوریشن الیکشن کا انتظار کیا جارہا ہے بارش کی وجہ سے روڈ کا برا حال ہو چکا ہے اکثر ہاسپٹل اسی روڈ پر ہیں مریضوں کو آنے جانے میں بے انتہا تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیا آپ کا اور آپ کے بچّوں کا گزر آگرہ روڈ سے نہیں ہوتا؟ اُنھیں سے پوچھ لو عوام کو اور معصوم بچّوں، بزرگوں کو اس روڈ سے گزرنا کتنا دشوار ہے کتنی تکلیف ہوتی ہیں راستے پر بڑے بڑے جانلیوہ گھڑے پڑچُکے ہیں پانی بھر جانے سے گھڑے دکھائی نہیں دیتے جس کی وجہ سے کئی حادثات ہو چکے ہیں اسی کے ساتھ برسوں سے جاری بِرج کا کام بھی کسی عذاب سے کم نہیں والدین تو ڈر کے مارے بچّوں کو آگرہ روڈ پر جانے کے لئے منع کرتے ہیں اس ڈر سے کہ شاید میرے لاڈلے کا ایکسیڈنٹ نا ہوجائے بچّوں کے سر پر کفن باندھ کر اسکول و دیگر کام کے لیے بھیجا جاتا ہے آپ کے پورے گھر کے افراد کا گزر بھی اسی آگرہ روڈ سے ہوتا ہیں کیا آپ کو دکھائی نہیں دیتا اسی طرح شہر کی دیگر شاہراہوں کا بھی یہی حال ہے مالیگاؤں کارپوریشن تو جیسے مردہ ہوچکی ہے کوئی بولنے والا ہی نہیں ہے ہمارے لیڈران کا دبدبہ کارپوریشن سے ختم ہوچکا ہے مخلص، تعلیم یافتہ، ایماندار، بےباک لوگوں کو کارپوریشن میں بھیجا ہی نہیں جاتا یا پہنچنے ہی نہیں دیا جاتا یہی ہے کہ ذیادہ تر کام دوسرے علاقوں میں کیا جاتا ہے افسوس ہمارے شہر کے مسلم لیڈران پر.....!

महाराष्ट्र माध्यमिक शिक्षक संघ (फेडरेशनच्या) उपाध्यक्षपदी तसेच नाशिक विभाग माध्यमिक शिक्षक संघाच्या अध्यक्षपदी आर.डी.निकम यांची निवड

महाराष्ट्र माध्यमिक शिक्षक संघ (फेडरेशनच्या) उपाध्यक्षपदी तसेच नाशिक विभाग माध्यमिक शिक्षक संघाच्या अध्यक्षपदी आर.डी.निकम यांची निवड
           काल रविवार दिनांक 29.8.2021 रोजी, पुणे येथे सदाशिव पेठेतील पुणे विद्यार्थी गृहाच्या, महाराष्ट्र माध्यमिक विद्यालयात महाराष्ट्र माध्यमिक शिक्षक संघ फेडरेशनचे अध्यक्ष श्री. ज्ञानेश्वर कानडे यांच्या अध्यक्षतेखाली महाराष्ट्र माध्यमिक शिक्षक संघ फेडरेशनची महत्वपूर्ण बैठक संपन्न झाली,बैठकीत शासनाकडे प्रलंबित असलेल्या शिक्षकांच्या विविध मागण्यांबाबत चर्चा करण्यात आली,कोरोना काळात मृत्यू पावलेल्या शिक्षक कर्मचाऱ्यांना इतर शासकीय कर्मचाऱ्यांप्रमाणे सर्व प्रकारचे लाभ देण्यात यावेत, सुट्टीच्या काळात ज्या कर्मचाऱ्यांनी कोरोना योद्धा म्हणून काम केलेले आहे त्या कामाची सेवा पुस्तकात नोंद करण्यात यावी,तसेच इतर शासकीय कर्मचाऱ्यांप्रमाणे 50 लाखाचे विमा कवच देण्यात यावे,सर्व शिक्षक कर्मचाऱ्यांना सरसकट जुनी पेन्शन योजना लागू करण्यात यावी,आधार कार्ड प्रमाणे करण्यात येणाऱ्या संच मान्यतेस तूर्त स्थगिती देण्यात यावी,डीसीपीएस योजनेचे एनपीएस योजनेत रुपांतर झाल्याने त्याचा सर्व सविस्तर हिशेब शिक्षक कर्मचाऱ्यांना देण्यात यावा, सातव्या वेतन आयोगातील वेतन त्रुटी तात्काळ दुरुस्त करण्यात याव्यात, केंद्राप्रमाणे प्रलंबित महागाई भत्ता थकबाकीसह तात्काळ देण्यात यावा, प्रशिक्षणाची अट रद्द करून वरिष्ठ व निवड श्रेणी तात्काळ मंजूर करण्यात याव्यात,जवळपास पाच तास चाललेल्या बैठकीत यासह अनेक विषयावर सविस्तर चर्चा करण्यात आली.
         *या वेळी राज्य पदाधिकाऱ्यांच्या मागणीनुसार महाराष्ट्र माध्यमिक शिक्षक संघ फेरेशनच्या उपाध्यक्षपदी व नाशिक विभाग माध्यमिक शिक्षक संघटनेच्या अध्यक्षपदी आर.डी. निकम यांची तसेच कोकण विभाग माध्यमिक शिक्षक संघाच्या उपाध्यक्षपदी नरसु पाटील यांची एकमताने निवड करण्यात आली*
       याप्रसंगी फेडरेशनचे कार्यवाह, शालिग्राम भिरूड, फेडरेशनचे उपाध्यक्ष हनुमंतराव भोसले,कोषाध्यक्ष राजेंद्र लांडे पाटील,यांच्यासह राज्यभरातील फेडरेशनचे पदाधिकारी उपस्थित होते, या बैठकीसाठी नाशिक जिल्ह्यांमधून नाशिक जिल्हा माध्यमिक शिक्षक संघाचे अध्यक्ष टी.एम.डोंगरे,कार्यवाह चंद्रकांत कुशारे, मोहन चकोर,राज्य समन्वयक,नीलेश ठाकूर, प्रदीपसिंह पाटील,संजय गिते बाळासाहेब देवरे, त्रंबक मार्तंड,अरुण पवार, सचिन शेवाळे,भाऊसाहेब शिरसाठ, रमेश घोडके, अतुल आढाव, सि.डी.अहिरे आदी उपस्थित होते.

جنتادل سیکولر کی صدارت بھی ایک کانٹوں بھرے تاج سے کم نہیں ‏

ســـــاتھی نــــــــہال احـــــمد صاحب نے ہمیں یہ احساس و ذمے داری خوب سمجھائی کہ  
 قیادت , صداقت اور صدارت کا مطلب کیا ہوتا ہے  
اور جنتادل سیکولر کی صدارت بھی ایک کانٹوں بھرے تاج سے کم نہیں 

از قلم :شیخ انیس مستری
جنتادل سیکولر شہر مالیگاؤں سے لیکر مہاراشٹر کے صدر رہے ساتھی نہال احمد صاحب کے بعد ساتھی بلــــــند اقــــبال شــــــہر جنتادل سیکولر کے صدر بنے اور انتہائی کم وقت میں شہری سیاست میں اپنی بیبانگ دہل تقریروں کے علاوہ اپنی تعلیمی قابلیت کی بنیادوں پر شہر میں اصول پرستی کی سیاست کرتے ہوئے اپنی ایک منفرد پہچان بنائی جو کہ شہریان کبھی نہیں بھول سکتے ۔۔۔ اور ساتھی نہال احمد صاحب کہ بعد ساتھی بلند اقبال صاحب نے جنتادل پریوار کو ( مرضی مولیٰ ) روتا سِسَکتا چھوڑ گئے 
اس کہ باوجود اللہ رب العزت نے جنتادل پریوار کو وہ حوصلہ وہ ہمت بخشی کے جنتادل پریوار کے ورکروں نے ساجدہ میڈم کو ایک ماں کا پیار اور شان ہند کو ایک بہن کا پیار دیا اور ان کے دکھوں میں مددگار بنتے رہے اور انھیں ہمت و حوصلہ دیتے رہے کہ اے ماں  مالیگاؤں شہر کی ہر گلیوں میں تجھے بلند اقبال جیسا پیار ملے اور اے بہن شہر کے ہر علاقوں میں تجھے بلند اقبال جیسے بھائی ملیں گے اور ماں بہن اور اپنے چہتے لیڈر ساتھی نہال احمد کی یادوں نے جنتادل پریوار کو ایک مرتبہ پھر پہلے کی طرح ایک ہونے کا موقع دیا یے ۔۔۔

اور جنتادل سیکولر پریوار قیادت کی عظمت کو خوب جانتا ہے اور قیادت اور صدارت کی ذمہ داریاں کیا ہوتی ہیں اور اپنی قوم کی کیا ذمہ داریاں ہم پر واجب ہوتی ہیں 
نگاہ کی بلندی اور قیادت کی عظمت 
شہری قیادت ایسی ہونی چاہئے جو بلند نگاہ کی حامل ہو اور بلند نگاہی یہ ہے کہ وہ قیادت ایک نظر میں معاملے کی تہہ تک پہنچ جائے, وہ تعلیمی قابلیت رکھتا ہو,  وہ دور اندیش ہو اور معاملہ فہم ہو اور اس معاملے کو سامنے رکھ کر وہ امور قیادت سر انجام دے, 

         شہر کے موجودہ حالات سے اس کے مستقبل کے حالات کو جان لیا جائے, نگاہ کی بلندی ہی  شہری حالات کو بلند ہمتی کا جذبہ دیتی ہے اس کے ولولوں اور جزبوں کو جانب منزل گامزن کرتی ہے,
 
         جو قیادت کی نگاہ بلند نہیں ہوتی ہے اس کا جہاں کرگس کے جہاں کی طرح ہے,  اور جو شہری قیادت نگاہ بلند ہوتی ہے اس کا جہاں شاہیں کے جہاں کی طرح ہوتا ہے ۔۔۔ 
اور ہمارے لیڈر ساتھی نہال احمد صاحب نے جنتادل پریوار کو یہی ہمت و حوصلہ دیا ہے
اس پر علامہ اقبالؒ نے کیا خوب کہا ہے کہ 

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضاء میں

کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور

Thursday, 26 August 2021

شہید عبدالحمید روڈ المعروف کسمبا روڈ پر جنتادل سیکولر نے کمشنر کا ہنگامی دورہ کرایا

شہید عبدالحمید روڈ المعروف کسمبا روڈ پر جنتادل سیکولر نے کمشنر کا ہنگامی دورہ کرایا
شہید عبدالحمید روڈ المعروف کسمبا روڈ کی بدحالی اور گڑھوں کو دیکھتے ہوئے اج شام 4 بجے جنتادل سیکولر کارپوریٹرس نے میونسپل کمشنر کا کسمبا روڈ کا ہنگامی دورہ کرائے، جس میں *ساتھی مستقیم ڈگنیٹی، کارپوریٹر عبدالباقی راشن والا، سابق کارپوریٹر رضوان خان سر، کارپوریٹر تنویر ذوالفقار، کارپوریٹر منصور شبیر، معاون کارپوریٹر سید سلیم، سلیم گڑبڑ، عارف حسین پاپا، عمران باقی، ارشد یوسف الیاس، مشتاق راشن، عبدالرحمٰن انصاری، ابولیث انصاری، سمیت کارپوریشن کمشنر و سٹی انجینئر وغیرہ موجود تھے* حال ہی میں 80 لاکھ کی لاگت کا مذکورہ روڈ پر پیچ ورک ہوا، 10 دن پہلے ہوئے پیچ ورک کی حالت بتانے کیلئے اپسرا ہوٹل سے اقبال دابی تک دونوں جانب کی سڑک پر کمشنر کو پیدل چلایا گیا، واپسی میں پیدل قافلہ اپسرا ہوٹل سے ہوتا ہوا آگرہ روڈ نیا بس اسٹینڈ کے دونوں جانب نالہ دیکھایا گیا جس کا پانی آگرہ روڈ پر جمع رہتا ہے. مدینہ آباد تک کمشنر کا دورہ کرا کے عوام کے پیسوں کی لوٹ مار، ٹھیکیداروں کی چوری سے واقف کرایا گیا. 
دورے کے اختتام کے بعد جنتادل سیکولر نوجوان سرگرم لیڈر ساتھی مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ جلد ہی پارٹی ذمہ داران و کارپوریٹرس سے مشورہ کرکے مسائل کے حل کیلئے لائحہ عمل طئے کیا جائے گا.

Tuesday, 24 August 2021

اُلْٹے چُور کوتوال کو ڈانٹے

اُلْٹے چُور کوتوال کو ڈانٹے

( اپنے کرتوت پر شرمانے کے بجائے ٹوکنے والے کو آنکھیں دکھانا)

ازقلم   محمد عمیر انصاری۔
سالانہ دو کروڑ کے MLA فنڈ پر نظر رکھنے والے  اور پچیسوں سال اقتدار کا مزا لوٹنے والے آج کے موجودہ ساڑھے چار سو کروڑ کی سالانہ بجٹ  رکھنے والی کارپوریشن کے برسراقتدار لوگ جن کا پہلا حق یہ بنتا ہے کے شہر کو سدھارے جن کے پاس ساڑھے چار سو کروڑ سالانہ اور پانچ سالوں کا بجٹ دو ہزار دو سو پچاس کروڑ ہے۔وہ شہریوں کے سامنے اپنی ناکامی اور ناکام نمائندگی کو چھپانے کیلئے ۔سالانا دو کروڑ  کے بجٹ رکھنے والے MLA پر اپنی ناکامی کا گڑھا پھوڑنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔لیکن اب کوئی بھی ہتھکنڈا ان کا عوام پر چلنے والا نہیں ہے عوام نے ان کو 20 سے 25 سال تک اقتدار میں رکھا لیکن یہ ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئے آج بھی میئر ان کا ہے میئر فنڈ سے جو کام آسانی سے اور کم وقت میں ہو سکتا ہے وہ کام MLA فنڈ سے نہیں ہوسکتا۔ ساتھی نہال احمد نے اپنے وقت میں مالیگاؤں کو ضلع بنانے کی کوشش کی لیکن موجودہ برسرِ اقتدار نے کارپوریشن  کے مزے لوٹنے کے لئے مالیگاؤں کو ضلع نہیں بننے دیا یہی وجہ رہی کے مالیگاؤں سے بچھڑے دیہات اور شہر ضلع میں تبدیل ہو کر ترقی پذیر ہوئے  جس میں سرفہرست آج ناسک اور دھولیہ ہیں۔ہمیں امید ہے کہ مفتی محمد اسماعیل قاسمی صاحب کچھ کریں یا نہ کریں لیکن مالیگاؤں کو ضلع بنانے کی کوشش ضرور کریں گے اور انشاء اللہ کامیاب رہیں گے۔ ضلع کے MLA کو آس پاس کے دیہاتوں کی وجہ سے زیادہ فنڈ الگ الگ کوٹے سے ملتے ہیں۔ اس کی نسبت کو شہر کے MLAکو مخصوص اور مختص فنڈ ملتا ہے یہ سب جانتے ہیں۔ خیر اللہ رب العزت کا احسان وہ کرم ہے کہ لوگ ہماری پارٹی کے ایم ایل اے کی تعریف کرنے پر مجبور ہے کہ دھولیہ کے مجلس کے MLA نے کیا کام کیا ہے اور آج اللہ پاک نے مجلس کو برا بھلا بولنے والوں کے ہاتھوں ہماری پارٹی کا پرچار کروا رہا ہے۔ شکر الحمدللہ آج وہ دھولیہ کے مجلس کے MLA کی  تعریف کرتے  نہیں تھک رہے ہیں انشاءاللہ کل مالیگاوں کے MLA کی بھی صلاحیت کو قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ایک بات تو یہ کہ آپ کہتے ہو کہ پانچ سال بے مثال تھا اگر پانچ سال بے مثال تھا تو اب کوئی کام بچا ہی نہیں ہونا چاہیے اور اگر بچہ ہے تو بے مثال نہیں تھا یا تو آپ اس وقت جھوٹے یا غلط تھے یا اب جھوٹے یا غلط ہوں۔ آپ کی تعمیرات یا تو ادھوری ہیں یا بند پڑی ہیں تو ایسی تعمیرات سے کیا فائدہ جس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو۔ مفتی صاحب کے MLA بنے کے بعد دو ڈھائی مہینہ سرکار بننے میں چلا گیا اس وقت ان آر سی اور سی اے اے کے معاملات تھے اس موضوع پر نمائندگی کرنا تھی صاحب نے کیا مردوں اور خواتین دونوں کو سڑک پر لا کر تاریخی احتجاج درج کیا اور پورے شہر نے ان کا ساتھ دیا جس پارٹی پر آج آپ فخر کرتے ہو اس پارٹی کو مفتی صاحب نے صرف قوم کے لئے چھوڑا ہے یہ کہہ کر کے چھوڑا کہ آپ نے تین طلاق کے معاملے پر ایوان سے واک آؤٹ کیا اس کی مذمت یا مخالفت نہیں کی جس سے ہمارے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہم آپ کی پارٹی سے نہیں لڑ سکتے۔ جو مسلمانوں کے حقوق کی لڑائی نہیں لڑ تے۔ آپ نے بھی کچھ روز کب جب ان سی پی کی آفیس  ممبئی میں مسلم ریزرویشن کے لیے لیٹر دیا تھا لیکن کیا ہوا ایوان میں صرف مراٹھا ریزرویشن کی آواز اٹھی  آپ کی کوئی حیثیت ہی نہیں رہی اپنی پارٹی میں تو ہم کیسے مان لیں کہ آپ اچھی نمائندگی کر سکتے ہو این سے پی کے پلیٹ فارم سے۔

 مفتی صاحب کا دور آگے بڑھا تو کرونا کی پہلی اور سب سے خوف ناک لہر شروع ہو گئی جیسے ہی ان کا پہلا سال کا فنڈ ریلیز ہوا پورے مہاراشٹرا میں سب سے پہلے MLA ہیں مفتی صاحب جنہوں نے پچاس لاکھ روپیہ کرونا کے لیے دیا اس کے بعد  جو فنڈ آیا وہ روڑ کے لئے ڈاکٹر خالد پرویز اور مستقیم ڈگنیٹی اور اعجاز بیگ  کو دیا یا ابھی الحمدللہ ایک کروڑ کا فنڈ مالیگاؤں سیول ہاسپیٹل کے اندر مالیگاؤں اور آس پاس کے دیہات کے لوگوں کی علاج و  معالجے کے لیے لگایا مفتی اسماعیل قاسمی صاحب شروع سے ہی جو مسائل سامنے درپیش آرہے ہیں ان کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور الحمداللّہ کامیابی ان کے قدم چوم رہی ہے یہی وجہ ہے کہ مخالفین کے پیٹ میں مروڑ ہورہی ہے اور خانے حجم نہیں ہو رہے ہیں اور وہ بد نام کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں۔لیکن

 *مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے*
 *وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے*

 اللہ رب العزت سب دیکھ رہا ہے
*وتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ*
عزت اور ذلت صرف اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی انسان کسی کو ‏نہ عزت دے سکتا نہ ہی کسی کو ذلیل کر سکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی کو عزت دینا چاہے تو پھر ساری دنیا مل کر بھی اسے ذلیل نہیں کر سکتی۔ لیکن اللہ تعالی جب عزت دیتا ہے تو پھر اس کا امتحان بھی لیتا ہے۔ اللہ تعالی پر یقین ہو تو انسان ہر امتحان میں کامیابی حاصل کرلیتا ہے۔ زندگی میں اگر کوئی ناحق آپ کے کردار کو داغدار کرنے کے لیے چوراہے پر کیوں نہ مجمع جمع کرلے، اس وقت بھی اطمینان رکھیں کہ عزت اور ذلت صرف اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے۔ انسان کتنا بھی سرکش کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔وہ اپنی زبان سے صرف نازیبا کلمات ہی نکال سکتا ہے۔نیک انسان کے ہاتھ میں صرف محنت اور کوشش ہے۔ کامیابی اللہ دیتا ہے ۔ بیشک عزت اور ذلت دونوں ہی اللہ رب العالمین کے ہاتھ میں ہے

‎'The Judgement ‎دی ججمینٹ

قلمکار :افضال انصاری 
پتہ :191،اسلام نگر، انڈیا 

                   'The Judgement دی ججمینٹ' 
رات کا پچھلا پہر تھا ... میرے سامنے نئے افسانے کا ادھورا مسودہ پڑا ہوا تھا ، میں بالوں میں انگلیاں دیئے ہوئے مسلسل مرکزی کردار کے اختتام کے بارے میں سوچ رہا تھا ، بیوی کی بے حیائی، بے وفائی، اس کا دوسرے مردوں سے کھلے عام معاشقہ، مرکزی کردار کی بے روزگاری، بے بسی، بیوی کا اچھی تنخواہ پر کام کرنا، گھر میں آفس کے لوگوں کو کام کے بہانے لانا اور بے حیائی کے کام کرنا... 
مرکزی کردار کو کیا کرنا چاہیے؟؟ 
طلاق دے کر دوسری لڑکی تلاش کر لے؟؟ 
مگر اس سے شاید ملے ہوئے زخموں کا مداوا نہ ہو سکے اور یہ تو ایک سیدھا سا اختتام ہوگا، اس میں نہ کوئی افسانوی رنگ ہوگا نہ پڑھنے والے کے لیے کوئی دلچسپی... 
پھر؟؟؟ پھر کیا کرنا چاہیے اسے؟؟ 
یہ سوچتے ہوئے میرے ماتھے کی رگیں تن گئیں، مٹھیاں بھنچی ہوئیں اور سانسیں چڑھی ہوئی تھیں پھر اچانک ایک خیال سا ذہن میں آیا... 
ہاں اسے خودکشی لینی چاہیے تاکہ انجام بھی افسانوی اور چونکا دینے والا ہو .. 
اور ویسے  بھی موت سے کرداروں کے سارے دکھوں کا مداوا ہوجاتاہے... 
موت تو دکھوں بھری زندگی کا ایک حسین اختتام ہے.. 
موت اپنے خوبصورت ہاتھوں سے سارے دکھوں کا گلا گھونٹ کر اپنے چاہنے والوں کو رہائی دیتی ہے.. 
ہاں اسے یقیناً مر ہی جانا چاہیے.. 
یہ سوچتے ہوئے میں نے آنکھیں موند لیں.. 
اچانک کچھ آوازوں کے شور سے میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا.. 
کمرا مختلف نوع کی آوازوں سے بھرا ہوا تھا، ہر طرف پرچھائیاں اور سائے لہرا رہے تھے اور ہاتھ اٹھا اٹھا کر مجھ سے کچھ کہہ رہے تھے مگر ایک ساتھ آتی ہوئی آوازوں کے سبب میں کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا .. 
میری بے چینی بڑھتی جا رہی تھی، جسم سے جیسے پسینے کی دھاریں پھوٹ رہی تھیں، سانسیں چڑھی ہوئی تھیں، ٹیبل لیمپ کی روشنی ٹیبل سے ہوتی ہوئی ہلکی ہلکی سی سارے کمرے میں پھیلی ہوئی تھی،اسے شاید روشنی کہنا بھی غلط تھا یہ تو ایک ایسا اندھیرا تھا جسے تھوڑی سے روشنی نے اور گھنا کر دیا تھا....
مسلسل آوازیں جب میری برداشت کے باہر ہونے لگیں تو میں اچانک پھٹ پڑا... 
"خدا کے لیے خاموش ہو جاؤ !!!کون ہو تم لوگ؟ اور میرے کمرے میں کیوں گھس آئے ہو ؟ "
" آخر تم لوگ مجھ سے چاہتے کیا ہو؟ "
" میں تم لوگوں کو جانتا تک نہیں"
میرا خاموش ہونا تھا کہ کمرہ پھر مختلف آوازوں سے بھر گیا ہے... ان میں غصیلی آوازیں بھی تھیں، تکرار اور اضطراب سے بھری آوازیں بھی، کچھ آوازیں خود میں بے انتہا درد سموئے ہوئی تھیں تو کچھ گریہ وزاری کر رہی تھیں... 
اس مرتبہ میں حلق پھاڑ کر چینخا... 
"چپ ہو جاو!!... چپ ہوجاؤ!!!... کیوں میری جان کے گاہک بنے ہوئے ہو؟اگر تم لوگ مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہو تو ایک ایک کر کے مجھ سے بات کرو! "
یہ کہنا تھا کہ کمرے میں دل کو دہلا دینے والا گمبھیر سناٹا چھا گیا اور سایوں کی بھیڑ میں سے ایک سایہ آگے آ گیا.. 
" ہاں کہو! کیا کہنا چاہتے ہو؟ اور تم کون ہو یہ بھی مجھے بتاؤ؟؟ "
" میں کون ہوں؟؟" ایک کھرکھراتی ہوئی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی "تم مجھے نہیں جانتے؟ تم نے مجھے زندگی دی، تمہاری ہی مرضی کے مطابق میں نے وہ زندگی گزاری!!اور تم نے ہی مری مرضی کے خلاف مجھ پر موت مسلط کر دی!! جس کہانی میں تم نے مجھے جنم دیا تھا، میں اس کے دوسرے کرداروں سے بے انتہا محبت کرتا تھا! ٹھیک ہے میری بیوی میری بے روزگاری کی وجہ سے مجھے کوستی رہتی تھی، یہ بھی درست ہے کہ میرا  لڑکا مجھے ہمیشہ اس بات کا طعنہ دیتا تھا کہ میں نے اسے ایک اچھی اور معیاری زندگی نہیں دی، لیکن کیا تمہیں نہیں معلوم انہیں کرداروں میں میری چھ سال کی بچی بھی تھی.. جو مجھ سے بہت پیار کرتی تھی، میں جب گھر آتا تو میرے پیروں سے لپٹ جاتی، اپنی توتلی زبان میں مجھے دن بھر کی معصوم سی باتیں بتاتی، تم اگر میرے اندر جی رہے ہوتے تو تم جان پاتے کہ اس کی محبت ساری نفرتوں پر حاوی تھی، میں اس کے لیے جینا چاہتا تھا، مگر تم......!!.! 
اس کی آواز بلند ہوتی جا رہی تھی.. 
"مگر تم میرے خدا بن بیٹھے، تمھیں تو میری کہانی کا درد بھرا اختتام چاہیے تھا، تا کہ لوگ تمھیں سراہیں.. اور تم نے اپنے تھوڑے سے مفاد کے لئے میرے حق میں موت کا فیصلہ سنا دیا، تم نے مجھے خود کشی پر مجبور کر دیا "
" میں نے مجبور کیا ؟ "
" ہاں تم نے!! لوگوں نے اسے خودکشی سمجھا ہوگا ! مگر میں جانتا ہوں کہ یہ قتل تھا، اور تم میرے قاتل ہو!! تم ہوتے کون ہو میری زندگی کا فیصلہ کرنے والے؟ کیا صرف اس لئے کہ تم میرے خالق ہو؟"
" میرے لحاظ سے جو فیصلہ میں نے لکھا وہ ہی درست تھا " میں نے اپنے دفاع کی کوشش کی.. 

" اس نے سبھوں کے ساتھ ایک سا برتاؤ کیا ہے "
ایک منمناتی ہوئی آواز میرے کانوں میں آئی اور ایک سایہ بھیڑ سے نکل کر سامنے آ گیا... 
" میں ایک عفیفہ تھی، شوہر کی شراب کی لت، اس کی بیماری، بچوں کی کثرت نے مجھے توڑ تو دیا تھا پھر بھی میں نے اپنے حوصلے کے سہارے ان مصائب کا سامنا کیا مگر میری مجبوری اور خوبصورتی کا فائدہ اٹھا کر تم نے  مجھے کوٹھے پر بٹھا دیا، مجھے جسم فروشی پر مجبور کیا... "
" میں نے مجبور کیا؟؟"
"ہاں تم نے.....!! کیوں کہ تم کہتے ہو کہ 'چکی پیسنے والی عورت جو دن بھر کام کرتی ہے۔ اور رات کو اطمینان سے سو جاتی ہے۔ تمہارے افسانوں کی ہیروئن نہیں ہو سکتی۔ تمہاری ہیروئن چکلے کی ایک طوائف ہو سکتی ہے۔  تمہیں اور تمہارے پڑھنے والوں کو میری مشقت بھری با عزت زندگی میں کوئی دلچسپی نظر نہیں نہیں تھی اس لیے تم نے مجھے چکلے پر بٹھا دیا، تم نے اگر میرے کردار کو جیا ہوتا، جیسا  تمہارا دعوی ہے، تو شاید تم میرے لیے چکلے کا انتخاب نہ کرتے، لیکن تم تو ہمارے خالق ہو تمہیں ہمارے جذبات اور احساسات سے کیا لینا، تمہیں تو صرف اپنی تحریروں پر داد بٹورنی ہوتی ہے، میری عصمت کا سودا کرنے والے تم ہو، تم نے میری دلالی کی ہے، میرے جسم کو فروخت کر کے تم نے دولت، عزت اور شہرت کمائی ہے. میری جانب اٹھنے والی غلیظ نگاہیں اور میری جانب لپکنے والے ہاتھ تمہارے تھے، تم کیا سمجھتے ہو کہ میری عصمت کے لٹنے کا الزام تم دوسروں پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاؤ گے؟؟ "
" سنو! میں نے تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی ہے، مجھے لگا کہ ایسے حالات میں شاید یہی ہونا چاہیے تھا "میں نے دفاع کی ایک کمزور سی کوشش کی... 
" یہی ہونا چاہیے تھا؟؟ تم ہوتے کون ہو میرا اگلا قدم طے کرنے والے؟؟ چکلہ اور کوٹھا تم مرد ذات کے دماغوں میں گھسا ہوا ہے، جتنی نجاست اور غلاظت تمہارے دماغوں میں بھری ہوئی ہے اتنی تو ان کوٹھوں پر بھی نہیں ہوتی،بلکہ کوٹھے تو تم لوگوں کے ذہنی بیت الخلاء کا کام کرتے ہیں، جہاں تم اپنی گندگیاں اگل کر معاشرے میں سفید پوش بنے پھرتے ہو.. 
اچانک ایک پھٹے پھٹے سے سائے نے اس عورت کو پیچھے کیا اور خود آگے آ گیا اور نہایت درد ناک آواز میں چلانے لگا، اس کی شکل میں پہچانتا تھا، میں نے بھی چلّا کر کہا.. 
 "ارے تمہیں تو میں بہت اچھی طرح پہچانتا ہوں، تم میری آخری کہانی کے کردار تھے، تم جو ایک مذہبی جنونی تھے تم نے ایک بھرے چوک پر خود کو بم سے اڑا لیا تھا اور بے شمار بے معصوموں کی جان لی تھی " 
 
"میں نے خود کو بم سے اڑایا تھا؟؟؛ ارے میں تو مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والا ایک عام سا نوجوان تھا، جو خود بھی جینا چاہتا تھا اور دوسروں کو بھی جینے دینا چاہتا تھا مگر تم نے میرے جسم ہر بم باندھ کر مجھے بھرے چوک میں اڑا دیا، تم جو کرداروں کے لہو سے اپنی کہانیوں میں رنگ بھرتے ہو، آہوں اور سسکیوں سے اس کا راگ سنوارتے ہو... 
کیا تمہارے پاس دریائے نیل سے آنے والے امن کے حوالے نہیں تھے؟ کیا تمہیں عرب کے صحراؤں سے نکلنے والی امن و آشتی کی تعلیمات کا علم نہیں تھا؟ کیا تم نے برگد کے نیچے بیٹھے اس شخص کی انسان سے انسان کی محبت کی تعلیمات کو نہیں سنا جس نے امن اور محبت کے لیے اپنا سب کچھ تیاگ دیا تھا؟ کیا تم تک مردوں کو زندہ کرنے والے کا پیغام امن نہیں پہنچا؟؟ وہ جو مردوں کو زندہ کرکے مسیحائی کرتا تھا اور تم جو زندوں کو مردہ بنانے پر تلے ہوئے ہو..
 کیا تمہارے کانوں میں رس گھولتی بانسری کی وہ آوازیں نہیں آئیں جس نے جانوروں کو بھی محبت کی ڈور سے باندھ دیا تھا ؟ 
ہاں تم سنتے بھی تو کیسے سنتے!! 
تم دیکھتے بھی تو کیسے دیکھتے!! 
ان میں تمہارے  اور تمہارے قارئین کے لیے دلچسپی کہاں تھی!!! 
تم نے تو ان قوموں سے سیکھا جنھوں نے آسمان سے سے موت برسا کر پل بھر میں دو ہنستے بستے شہروں کو تباہ کر دیا، جنھوں نے اقوام عالم کو آپس میں لڑوا کر کروڑہا انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، جنھوں نے دنیا کو لکیروں، زاویوں، رنگوں، نسلوں، زبانوں اور مذاہب میں تقسیم کیا، تم بھی تو انہیں کے علم بردار ہو، تمہیں کیا ہوجاتا اگر تم مجھے میرے اصلی کردار میں پیش کر دیتے؟ ہاں شاید تمہاری کہانی کا رنگ چلا جاتا جاتا کیونکہ امن کا پرچم بھی سفید ہوتا ہے... 

اچانک سایوں کی بھیڑ میں سے ایک سایہ آگے سرک آیا،اس کی آنکھوں میں موت کا خوف رقص کر رہا تھا اس نے فضا میں مکے لہرائے اور بلند آواز سے کہنے لگا.. 
"تمہیں تو اس نے انجام تک پہنچا دیا مگر میرا انجام ہونا باقی ہے، میری ادھوری کہانی اس کی میز پر رکھی ہوئی ہے، اور اس نے مجھے میرا انجام نہیں بتایا ہے،لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ میرے لیے بھی موت ہی چنے گا، سن رہے ہو تم؟؟ 
بتاؤ مجھے تم نے میرے لیے کیا چنا ہے؟؟ "
رفتہ رفتہ میرے سارے کردار سامنے سے ہٹتے چلے گئے، اب میرے سامنے ایک ہی کردار تھا جو مجھ سے سوال کر تھا کہ میں نے اس کے لیے کیا چنا ہے... 
" ہاں تم نے صحیح سوچا ہے، موت ہی تمہارے غموں کا مداوا ہے "
" یہ تو تمہارا فیصلہ ہے... قلمکار!..!! تم اپنے حصے کی موت مجھ پر لادنا چاہتے ہو...مگر آج نہیں!! آج قلم وہی ہوگا اور کاغذ بھی وہی اور فیصلہ بھی وہی مگر لکھنے والے ہاتھ اور کردار بدل جائیں گے... "

رات کا سیاہ اندھیرا چھٹ چکا ہے ، سورج کی پہلی کرن نے ابھی ابھی کمرے کے اندر جھانکا ہے، میرے جسم کی کلائیوں سے بہنے والے خون نے میز پر رکھے کاغذ کو سرخی سے بھر کر ادھوری کہانی کو مکمل کر دیا ہے..

وزیراعظم و ریاستی گورنر نارائن رانے کے خلاف سخت سے سخت قدم اٹھائی ںراشٹریہ مسلم مورچہ مالیگاؤں

وزیراعظم و ریاستی گورنر نارائن رانے کے خلاف سخت سے سخت قدم اٹھائیں
راشٹریہ مسلم مورچہ مالیگاؤں
 
فی زمانہ کسی پر بھی الزام تراشی ایک فیشن بن رہ گئی ہے. الزام تراشی کرنے والے نہ تو اپنا محاسبہ کرتے ہیں نہ ہی کسی پر الزام تراشی کررہے ہیں اس کا مرتبہ دیکھتے ہیں. حالیہ دنوں شیوشینا چھوڑ کر Bjp میں شامل ہونے والے نارائن رانے کا ریاستی وزیر اعلیٰ کے خلاف دیا گیا بیان بحث کا موضوع بناہوا ہے نارائن رانے کا موقف کیا تھا کس خلاف تھا کہ بر خلاف اسے شدد پسندوں کے خلاف قانون اور عدلیہ کے علاوہ اربابِ حکومت کو بھی متحرک ہونا چاہیے. *راشٹریہ مسلم مورچہ مالیگاؤں کے ذمہ داران* نے نارائن رانے کے وزیر اعلیٰ شری اودھو جی ٹھاکرے کے خلاف دیے بیان کی نہ صرف مذمت کرتا ہے بلکہ وزیر اعظم اور مہاراشٹر کے گورنر شری بھگت سنگھ کوشیاری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ خاطی نارائن رانے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرتے ہوئے ایسے شدد پسند بیانوں پر روک لگائیں تاکہ آئندہ کوئی بھی شدد پسند بیان کی جرأت نہ کریں.

جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے سابق خازن مولانا ابرار احمد قاسمی کا وصال،

جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے سابق خازن مولانا ابرار احمد قاسمی کا آج مورخہ 24/ اگست 2021 بروز منگل رات دس بجے ممبئی میں وصال،
 جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے سابق صدر مرحوم حاجی شمس الدین اعظمی صاحب کے ماموں زاد چھوٹے بھائی محترم مولانا ابرار احمد صاحب قاسمی، سابق خازن جمعیۃ علماء مہاراشٹر کا آج مورخہ 24/ اگست 2021 بروز منگل رات دس بجے کے قریب ممبئی کے ناگپاڑہ میں واقع میمنی بلڈنگ داؤد نرسنگ ہوم کے پاس ان کے مکان میں کافی روز علالت کے بعد انتقال ہوگیا ہے، تدفین بروز بدھ 25/ اگست 2021 صبح ساڑھے نو بجے ناریل واڑی قبرستان ممبئی میں کی جائے گی، 
    جمعیۃ علماء ہند کے صدر محترم، جانشین فدائے ملت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب مدظلہ نے موصوف کے وصال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے تعزیت مسنونہ پیش کیا ہے اور جملہ ذیلی جمعیۃ کے ذمہ داران اور مدارس اسلامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ مرحوم کے لیے ایصال ثواب کا اہتمام فرمائیں،
     والسلام جاری کردہ، 
                    شفیق احمدالقاسمی مالیگانوی
                        آرگنائزرجمعیۃ علماء ہند ،

مہاراشٹر پردیش کانگریس صدر نانا پٹولے کی مالیگاؤں آمد اور عظیم الشان جلسہ عام

مہاراشٹر پردیش کانگریس صدر نانا پٹولے کی مالیگاؤں آمد اور عظیم الشان جلسہ عام
28, اگست کو، اوسوال کمپاؤنڈ، نزد ہڈکو کالونی میں عوام سے خطاب کریں گے شیخ رشید

مالیگاؤں (احرار نیوز نیٹ ورک) 24, اگست مہاراشٹر پردیش کانگریس کے صدر نانا پٹولے ایک روزہ خصوصی مالیگاؤں کے دورہ پر تشریف لارہے ہیں، 28,اگست بروز سنیچر کی شام 7,بجے ہڈکو کالونی سے متصل اوسوال کمپاؤنڈ میں عوام سے خطاب کریں گے۔ اس کی اطلاع شہر کانگریس صدر و سابق میئر شیخ رشید نے دیتے ہوئے بتلایا کہ کانگریس پارٹی کو زمینی سطح یر مضبوط و مستحکم کرنے کیلئے عالیجناب نانا پٹولے نے گذشتہ دنوں مہاراشٹر کا دورہ کیا تھا۔ اس وقت مالیگاؤں میں بھی موصوف کا پروگرام ترتیب دیا گیا تھا تاہم دہلی میں کانگریس ہائی کمان کی میٹنگ میں شرکت کیلئے انہیں اچانک دہلی جانا پڑگیا تھا۔اسلئے انہوں نے مالیگاؤں کا پروگرام ملتوی کردیا تھا۔ لیکن شیخ رشید صاحب کے اصرار پر مالیگاؤں کو خصوصی ترجیح دیتے ہوئے اب 28,اگست بروز سنیچر کو مالیگاؤں تشریف لارہے ہیں اس موقع پر مقامی کانگریس پارٹی کی جانب سے ہڈکو کالونی سے متصل اوسوال کمپاؤنڈ میں شام 7,بجے سے رات 10,بجے تک ایک عظیم الشان جلسہ کے ذریعہ عوام سے خطاب کریں گے۔ انہوں نے بتلایا کہ مہاراشٹر وکاس اگھاڑی حکومت میں کانگریس کا حصہ، مرکزی حکومت کی جانب سے بڑھتی مہنگائی، اقلیتوں اور او۔بی۔ سی طبقہ پر کئے جانے والے مظالم پر کانگریس کی رہنمائی اور زمینی سطح پر کانگریس کو مضبوط و مستحکم کرنے کے اقدامات پر مقررین اظہار خیال فرمائیں گے۔  
کانگریس صدر شیخ رشید نے کانگریس پارٹی سے منسلک تمام ذیلی کمیٹیوں کے ذمہ داران، کارپوریٹر، عہدیداران، پارٹی کے خیر خواہوں، ہمدردوں، کانگریس کے جان نثاروں اور شہری عوام سے وقت مقررہ پر شرکت کی خصوصی درخواست کی ہے۔

پارلیمنٹ چناؤ لڑنے آصف شیخ کا اعلان ،تیاری جاری ، موجودہ ایم ایل اے پر طنز، مفتی اسماعیل کی کارکردگی صِفر

پارلیمنٹ چناؤ لڑنے آصف شیخ کا اعلان ،تیاری جاری ، موجودہ ایم ایل اے پر طنز، مفتی اسماعیل کی کارکردگی صِفر


مالیگاؤں : 24 اگست (نامہ نگار) مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن سے اپنی سیاست کا آغاز کرنے والے کانگریس رہنما سابق ایم ایل اے شیخ رشید کے فرزند آصف شیخ رشید نے اسمبلی الیکشن تک امیدواری کی اور ایم ایل اے شپ اپنے نام کرنے میں کامیابی حاصل کی اور اب شیخ آصف 2024 کے  لوک سبھا الیکشن لڑنے کی تیاری کررہے ہیں ۔اس ضمن میں موصوف نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ دھولیہ مالیگاؤں لوک سبھا حلقہ میں 13 لاکھ سے زائد رائے دہندگان ہیں اور ان میں مسلم ووٹوں کی تعداد تقریباً 4 سے پانچ لاکھ ہیں ۔شیخ آصف نے کہا کہ چونکہ یہ سیٹ کانگریس کے حصے میں آتی ہیں لیکن گزشتہ دو مرتبہ سے اس سیٹ پر کانگریس پارٹی کو  بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقابل شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔اس بار میں چاہتا ہوں کہ یہ دھولیہ مالیگاؤں لوک سبھا سیٹ راشٹروادی کانگریس پارٹی کے حصے میں دی جائے اور اگر پارٹی نے اجازت دی تو میں خود دھولیہ مالیگاؤں لوک سبھا سیٹ پر آنے والے 2024 کے پارلیمانی چناؤ میں حصہ ہونگا ۔شیخ آصف نے کہا کہ پارلیمنٹ الیکشن لڑنے کیلئے میری پوری تیاری ہیں اور پارٹی ہائی کمان نے اجازت دی تو میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کی جانب سے دھولیہ لوک سبھا الیکشن لڑونگا ۔اس ویڈیو پیغام میں شیخ آصف نے مقامی مجلس اتحاد المسلمین کے رکن اسمبلی مفتی اسماعیل کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہر میں کرائم میں اضافہ ہورہا ہے اور پولس پر عوامی نمائندے کا دباؤ نہیں ہے جس سے جرائم پیشہ افراد کے حوصلے بلند ہورہے ہیں ۔شیخ آصف نے کہا کہ اگر ایم ایل اے ہی ملزم کی سپورٹ کریں گے تو جرائم میں اضافہ ہوتا ہی رہیگا ۔ ایم ایل اے کی جانب سے شہر میں عوامی تعمیری اور فلاحی و تعلیمی کاموں کے نہ ہونے پر بھی شیخ آصف نے جم کر تنقید کی اور انہیں ناکام قیادت کا خطاب دیا ۔انہوں نے کہا کہ جب میں 2014 سے 2019 تک ایم ایل اے تھا تب ریاست میں بی جے پی کی حکومت تھی تب میں نے مالیگاؤں شہریان میں بنکروں، مزدوروں، امیروں غریبوں کے کام اور تعمیری و تعلیمی کام انجام دیئے اور شہر کی عوام نے اسے قبول بھی کیا لیکن موجودہ آمدار کام کرنے والے نہیں ہیں وہی کام کرنا ہی نہیں چاہتے اسی لئے آج ایم ایل اے شپ کے دو سال پورے ہونے کو ہیں شہر میں عوامی کام کچھ بھی نہیں ہوا ہے ۔

ہم بھارت کی ناری ہیں، پھول نہیں چنگاری ہیں، مودی سرکار ہائے ہائے ،بول رہے بہنا ہلہ بول نعروں کے ساتھ راشٹروادی مہیلا کانگریس کا مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

ہم بھارت کی ناری ہیں، پھول نہیں چنگاری ہیں،  مودی سرکار ہائے ہائے ،بول رہے بہنا ہلہ بول نعروں کے ساتھ راشٹروادی مہیلا کانگریس کا مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ



محبت بھائی چارے کے سہنانے دن ہی لوٹا دو، وہ سستی دال سبزی کے پرانے دن ہی لوٹا دو، یہ اچھے دن تو اڈانی امبانی کو مبارک ہو، ہمیں ایسا کرو صاحب پرانے دن ہی لوٹا دو
مالیگاؤں : 22 اگست (پریس ریلیز) ہم بھارت کی ناری ہیں، پھول نہیں چنگاری ہیں،اچھے دن کب آئیں گے مودی جی جب گھر جائیں گے، مودی سرکار ہائے ہائے ،بول رہے بہنا ہلہ بول، دیش کی جنتا کرے یہ پکار بند کرو یہ ہتیہ چار،مودی تیرے کتنے دن، جمعہ جمعہ آٹھ  دن، شرد پوار آگے بڑھو، سپریہ تائی آگے، روپالی تائی آگے بڑھو، شیخ آصف بڑھو ہم تمھارے ساتھ ہیں ۔ جیسے نعروں کے ساتھ مالیگاؤں شہر ضلع راشٹروادی کانگریس پارٹی کی جانب سے آصف شیخ کی سرپرستی میں راشٹروادی کانگریس پارٹی مہیلا سیل کی صدر یاسمین سید اور کارگزار صدر شاہینہ انصاری کی مشترکہ قیادت میں مودی سرکار کی عوام دشمن پالیسی اور مہنگائی کے خلاف شہر کی معروف شاہراہ آگرہ روڈ پر راستہ روکو اندولن کیا گیا ۔مہاراشٹر راشٹروادی کانگریس پارٹی کی صدر روپالی تائی کے حکم پر پورے مہاراشٹر میں آج مہنگائی کے خلاف احتجاج کیا گیا ۔اس موقع پر یاسمین سید نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار نے اچھے دنوں کا نعرہ دیا لیکن ہر دن بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں، غریب عوام کے گھروں کا چولہا بجھ گیا اور مودی سرکاری دھنا سیٹھوں کی آلہ کار بن گئی ۔انہوں نے کہا کہ اڈانی، امبانی جیسے کارپوریٹ لوگوں کے اچھے دن آئے ہیں لیکن غریب کے گھر میں فاقہ کشی کی نوبت آچکی ہیں ۔ مالیگاؤں شہر ضلع راشٹروادی کانگریس پارٹی کے صدر آصف شیخ کی سرپرستی میں مودی سرکار اور مہنگائی کے خلاف راشٹروادی کانگریس پارٹی مہیلا سیل نے گیس سلینڈر کو پھول ہار پہنا کر آگرہ روڈ پر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ۔سید یاسمین نے کہا کہ کھانے کا تیل، پیٹرول، ڈیزل اور روز مرہ زندگی کے ساز و سامان کے دام میں سرکار فوری طور پر کمی لائے اور عوام کو راحت دینے کا کام کریں ورنہ مودی سرکار کو اس بار ملک کی عوام گھر کا راستہ دکھا دے گی ۔یاسمین سید نے تقریر کرتے ہوئے مودی سرکار پر طنز کرتے ہوئے شعر کہا  کہ محبت بھائی چارے کے سہنانے دن ہی لوٹا دو، وہ سستی دال سبزی کے پرانے دن ہی لوٹا دو، یہ اچھے دن تو اڈانی امبانی کو مبارک ہو، ہمیں ایسا کرو صاحب پرانے دن ہی لوٹا دو ۔اس احتجاجی مظاہرہ میں مہیلا سیل کی صدر یاسمین سید، کارگزار صدر شاہینہ انصاری،سابق کارپوریٹر فاطمہ ہارون، صغریٰ آپا، سائرہ اسلم خان، مہر بانو صبا شاہد اختر، نجمہ نثار احمد، نینا سبھاش پوار، روپالی دنڈوے دیپالی سونپتے ریکھا واگھ سمیت مسلم وغیرہ مسلم خواتین بڑی تعداد میں موجود تھیں ۔اسکے علاوہ اس دھرنا اندولن کی رہنمائی اجو لہسن والا، ندیم پھنی والا، مجاھد ساگر، ایوب خان، شکیل جانی بیگ ،منموہن شیوالے نے کی ۔

وارڈ نمبر 15 میں اپوزیشن لیڈر شان ہند نہال احمد صاحبہ کے ہاتھوں مدرسہ جامعات الصالحات سے حافظ انیس اظہر کے گھر تک سیمنٹ روڑ کا افتتاح




وارڈ نمبر 15 میں اپوزیشن لیڈر شان ہند نہال احمد صاحبہ کے ہاتھوں مدرسہ جامعات الصالحات سے حافظ انیس اظہر کے گھر تک سیمنٹ روڑ کا افتتاح

ہارون مقادم ، شیخ زبیر، رفیق احمد منا،  ہارون بھائی، امتیاز سیٹھ، اشتیاق احمد ایولے والے،  عبدالعزیز بھاںٔی، شاھدبابوچودھری، ماسٹر حبیب الرحمن، سید نثار سمیت خواتین خصوصی طور پر شریک

 مالیگاؤں کارپوریشن میں اولین اپوزیشن لیڈر محترمہ شان ہند صاحبہ کے خصوصی فنڈ سے مدرسہ جامعات الصالحات سے ٹینشن چوک تک خوبصورت ڈیواںٔڈر اور ہاٹ مکس روڈ اور نیاپورہ گلی نمبر ١ و گلی نمبر 14 میں مظبوط سمنٹ روڈ کی تعمیر کے علاوہ محلہ حکیم نگر  کارپوریٹر محمد مستقیم ڈِگنیٹی صاحب کی زیرِ نگرانی ایشیاکی خواتین کی عظیم دینی درسگاہ مدرسہ جامعۃ الصالحات سے حافظ انیس اظہر صاحب کے مکان تک پختہ سیمنٹ روڑ کے کام کا افتتاح ہؤا
گزشتہ کچھ دنوں سے یہ  روڑ انتہائی خستہ حال ہوجانے کی وجہ سے علاقے کے ساکنین راہگیروں اور خواتین کو حددرجہ تکلیف پیش آتی تھی جسے محسوس کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شان ہند نہال احمد صاحبہ اپنے خصوصی کارپوریٹر فنڈ سےاس کام کو انجام دیا
مستقیم ڈِگنیٹی صاحب کام کی کوالیٹی اچھی رہے اس کیلئے لںٔے ٹھکیدار کو متعدد مرتبہ تاکید کرتے ہوئے نگرانی کرتے رہے 
 

مالیگاؤں جنتا نیوروتی ویتن سنگھٹنا کا وفد جاری بارش میں تحصیلدار آفیسر سے ملا

مالیگاؤں جنتا نیوروتی ویتن سنگھٹنا کا وفد جاری بارش میں تحصیلدار آفیسر سے ملا

سینٹرل اور آؤٹر کی فرقہ پرست سیاست کا شکار ہوئے بیوہ، طلاق شدہ خاتون، 65 سالہ بزرگ مرد و خواتین

اپوزیشن لیڈر شان ہند نہال احمد تحصیلدار آفیسر پر ہوئی برہم
مالیگاؤں شہر کی سیاست عجب موڑ پر ہے فرقہ پرستی کا بول بالا اس قدر بڑھ گیا ہیکہ اب آؤٹر اور سینٹرل کی سیاست کی بھینٹ سرکار کی جانب سے ملنے والے وظیفہ گذار مستحقین چڑھ گئے ہیں. آؤٹر حلقہ میں 4400 عریضے داخل ہوئے جس میں 4100 عریضے منظور ہوئے اور سینٹرل حلقہ میں 1000 عریضے داخل ہوئے جس میں صرف اور صرف 200 عریضے منظور ہوئے. 800 عریضے معمولی سی غلطی کے سبب ردّ کردیا گیا جس سے شدید ناراض مالیگاؤں جنتا نیوروتی ویتن سنگھٹنا کی صدر، اپوزیشن لیڈر *شان ہند نہال احمد صاحبہ* اور جنتادل سیکولر نوجوان سرگرم لیڈر *ساتھی مستقیم ڈگنیٹی* آج شام 4 بجے 65 سالہ بزرگ مرد و خواتین، بیوہ، طلاق شدہ خواتین کے ہمراہ تحصیلدار آفس پہنچے. آج کے وفد میں *شان ہند نہال احمد صاحبہ، مستقیم ڈگنیٹی، مہروالنساء اشفاق، ہارون ماسٹر، کتاب النساء، مسلم ڈھانڈے، سعیدہ حبیب، سلطانہ کبیر جان، شکیلہ محمد مصطفےٰ، مظفر شیدا، ندیم احمد، قریشہ بانو، عبدالرحمٰن انصاری، محمد وائرمین،* وغیرہ افراد موجود تھے. وفد کی قیادت کررہی شان ہند نہال احمد نے تحصیلدار آفیسر کو دو ٹوک انداز میں اپنی شکایت کرتے ہوئے برہم ہوتے ہوئے کہا کہ ہر مہینے ہونے والی جانچ کو 4 سے 5 مہینے میں آپ لوگ عریضوں کی جانچ کرتے ہو اور جانچ میں معمولی غلطی والے عریضوں کو ردّ کررہے ہو جب کہ ماضی میں عریضہ گذار کی یادی میں 3 کالم ہوا کرتے تھے *منظور، نامنظور اور کیوری (غلطی)* جن عریضہ گذار کے عریضے میں کیوری رہاکرتی تھی انہیں موقع دیا جاتا تھا اپنے نامکمل عریضے کو مکمل کرنے کیلئے، اس شکایت پر تحصیلدار نے کہا کہ ہم آئندہ سے ہر ماہ عریضوں کی جانچ کرے گے اور ماضی کی طرح یادی میں 3 کالم رکھے گے. اسی کے ساتھ شان ہند نہال احمد اور ساتھی مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ موجودہ یادی میں معمولی غلطی کے سبب نامنظور 800 عریضوں کی دوبارہ جانچ کی جائے اور عریضہ گذار کے نامکمل کاغذات منگوا کر انہیں موقع دیا جائے. جس پر تحصیلدار 800 نامنظور عریضوں کی دوبارہ جانچ کی یقین دہانی کئے، جنتا نیوروتی ویتن سنگھٹنا کی صدر شان ہند نہال احمد نے مذکورہ مطالبہ تحریری طور پر دیا اور 3 دنوں میں تحریری جواب مانگا.
               شان ہند نہال احمد نے اپنے بیان میں کہا کہ 65 سالہ بزرگ مرد و خواتین، طلاق شدہ، بیوہ، معذور مستحق افراد سرکار کی جانب سے ملنے والے وظیفہ ان کا سہارا ہوتا ہے اور اس جانب ہم پوری توجہ سے کام کررہے ہیں. ان مستحقین کے ساتھ نا انصافی ہم بلکل بھی برداشت نہیں کرے گے. مطالبات اگر خطوط اور بات چیت سے حل ہوتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ ہم نہالی انداز میں تحریکی راستہ اپناتے ہوئے عوام کو اُن کا حق دلانے کا ہنر جانتے ہیں

حـق کـی آواز وہـاٹـس اپ گـروپ کـے وفـد کـی ہـر دل عزیـز رکـن اسمبـلی فـاروق حـاجـی انـور شـاہ سـے مـلاقـات ۔۔

حـق کـی آواز وہـاٹـس اپ گـروپ کـے وفـد کـی ہـر دل عزیـز رکـن اسمبـلی فـاروق حـاجـی انـور شـاہ سـے مـلاقـات ۔۔

دھولیـہ میـونسپـل کاپـوریشـن کـے مـاتـحـت شـہر میـں بڑھتـی ہوئـی آوارہ کتـوں کـی تعـداد پـر قـابـو پانـے کـے لئـے مطالبـاتـی میـمورنـڈم پـیـش 
دھولیہ
 23 اگست 2021
شہر دھولیہ کے اقلیتی میں گزشتہ کئی سالوں سے آوارہ کتوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ گلی ،  محلوں اور راستوں پر آوارہ کتوں کے جماؤ سے دہشت کا ماحول بنا رہتا یے ۔ عورتوں بچوں اور طلبات کے لئے راستے پر جمع ان آوارہ کتوں کے جْھنڈ سے حادثہ رونما ہونے کا خطرہ لاحق رہتا ہے ۔ اسکول اور مدرسہ جانے والے طلبات آوارہ کتوں کے کاٹے جانے کے ڈر سے  سہمے رہتے ییں ۔ مرد حضرات کے لئے رات کے ایام میں اپنے گھروں تک پہچنے کے لئے بے انتہا مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اکثر و بیشتر رات کے ایام میں آوارہ کتے راہگروں کو کاٹنے کے لئے دوڑتے ہوئے دیکھے گئے ہیں ۔ دھولیہ میونسپل کارپوریشن اقلیتی علاقوں میں آوارہ کتوں کی بھرمار سے آنکھیں بند کئے خواب خرگوش میں پڑھا ہوا ہے جسے جگانے کے لئے آج شہر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے حق کی آواز وہاٹس اپ گروپ ممبران کے وفد کی جانب سے رکن فاروق حاجی انور شاہ کی خدمت میں ایک مطالباتی میمورنڈم پیش کر کے شہر کے اقلیتی علاقوں میں بڑھتی ہوئی آوارہ کتوں کی تعداد پر روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا ۔ حق کی آواز وہاٹس اپ گروپ کے وفد سے رکن اسمبلی فاروق حاجی انور شاہ نےوعدہ کیا کہ شہر میں بڑھتی یوئی آوارہ کتوں کی تعداد پر قابو پانے کے لئے دھولیہ میونسپل کارپوریشن کمشنر اور دیگر افسران سے رابطہ قائم کر کے آوارہ کتوں کی بھرمار پر قابو پانے کے لئے حکم صادر کیا جائے گا ۔ 
آج رکن اسمبلی فاروق حاجی انور شاہ سے ملاقات کےوقت حق کی آواز وہاٹس اپ گروپ ممبران میں مولانا شکیل اسمی ، محمد یوسف المعروف پاپا سر ، اخلاق احمد سمی  ، مدثر حسین ، حافظ جعفر پٹھان ، ارشاد احمد ،  ندیم  ابن نعیم سر ، مولانا زاہد سراجی ، عطاؤالرحمان عبدالغنی ،  رئیس احمد ، شعیب اختر ، محمد حامد ، محمد جاوید ، حافظ نعیم احمد کے علاوہ دیگر گروپ ممبران موجود تھے ۔۔

*HALEEM SHAMSUDDIN*
aimim dhule district president (social media)
📞 8830022622

آدھار کارڈ سے موبائل نمبر لنک کرنے کا سنہری موقع ، پوسٹ آفس کے اشتراک سے اردو میڈیا سینٹر میں چار روزہ کیمپ، عوام فائدہ اٹھائیں

آدھار کارڈ سے موبائل نمبر لنک کرنے کا سنہری موقع ، پوسٹ آفس کے اشتراک سے اردو میڈیا سینٹر میں چار روزہ کیمپ، عوام فائدہ اٹھائیں


مالیگاؤں : 23 اگست (پریس ریلیز) مالیگاﺅں شہر میں عوام کی ایک بڑی آبادی کا اب بھی موبائل نمبر اپنے آدھار کارڈ سے لنک نہیں ہوا ہے جس سے انہیں تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور شہر میں جاری دیگر آدھار کارڈ سینٹر پر فیس زیادہ ہونے  کے باوجود بھی عوامی ہجوم رہتا ہے اسی سبب شہریان اپنے آدھار سے موبائل نمبر لنک کروانے میں کشمکش میں مبتلا رہتے ہیں۔اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے مالیگاؤں شہر ہیڈ پوسٹ آفس کے سپرنٹنڈنٹ اور پوسٹ بینک کے ہیڈ مینجر کی جانب سے ایک کیمپ کا انعقاد اردو میڈیا سینٹر میں 25 اگست سے 28 اگست تک کیا جارہا ہے ۔جس میں عوام اپنے آدھار کارڈ سے اپنا موبائل نمبر اور ای میل لنک کرواسکتے ہیں ۔اسطرح کی اطلاع نتن ایولہ سپرنٹنڈنٹ آف  ہیڈ پوسٹ آفس مالیگاؤں و راجیو ڈوبے برانچ میجنر انڈیا پوسٹ پیمینٹ بینک کے اشتراک سے اردو میڈیا سینٹر نے جاری کی ہے ۔اس پریس ریلیز میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ جن افراد کا موبائل نمبر اور ای میل آئی ڈی آدھار کارڈ سے اب تک لنک نہیں ہوا ہے وہ میڈیا سینٹر میں 25 اگست بروز بدھ صبح آٹھ بجے سے اپنا موبائل نمبر اور ای میل آئی ڈی آدھار کارڈ سے لنک کروا سکتے ہیں ۔یہ اسکیم 25 اگست سے 28 اگست تک جاری رہیگی ۔لہذا شہریان کو اطلاع دی جاتی ہے کہ وہ اپنے موبائل نمر اور ای میل ایڈریس کو آدھار کارڈ سے لنک کروانے کیلئے اپنے ساتھ 50 روپیہ فیس اور ادھار کارڈ کا زیراکس اور جو نمبر لنک کروانا چاہتے ہیں اپنے ساتھ  موبائل فون بھی لیکر آئیں اور اپنے ادھار کارڈ س موبائل نمبر لنک کروائیں ۔میڈیا سینٹر میں دس ٹیبل لگا کر پوسٹ آفس کے نمائندے اپنی خدمات پیش کریں گے ۔اگر عوام کی تعداد زیادہ ہوتی ہیں تو ٹیبل اور پوسٹ آفس کے رضا کاروں کی تعداد میں اضافہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ عوام کو جلد از جلد آدھار کارڈ سے موبائل نمبر لنک کروانے میں آسانی ہو اور وقت کی بچت بھی ہوسکے 
۔

Monday, 23 August 2021

مہاراشٹر میں مسلم سنستھا چالکوں میں حرام کھانے کا بڑھتا رجحان

مہاراشٹر میں مسلم سنستھا چالکوں میں حرام کھانے کا بڑھتا رجحان:

 آزادی کے بعد جب ملک میں تعلیم کو بہت فروغ دینا شروع ہوا تو ہر گاؤں ہر شہر  اور قصبے میں اسکولیں قائم کی گئیں اور پھر یہ کہ مادری زبان میں تعلیم دینے پر زور دیا گیا۔اسی مقصد کے تحت ریاست مہاراشٹر میں بھی اردو میڈیم کی اسکولیں  بڑے پیمانے پر قائم ہوئیں ۔ان اسکولوں کو private management  کے زیرِ انتظام دیا گیا۔ ابتداء میں  مینیجمنٹ میں سماج کے مخلص افراد شامل ہوا کرتے تھےجو  کرپشن ،بد دیانتی ،اور حرص و حوص سے پاک ہوتے تھے۔ ان کا مقصد مسلمانوں کے بچوں کو اعلیٰ اور معیاری تعلیم  دینا ہوا کرتا تھا اس مقصد کے حصول کے لیے وہ   قابل ترین، فرض شناس اور صالح اساتذہ کا تقرر کیا کرتے تھے اور ادارہ  کو ہر طرح کے کرپشن سے پاک رکھنا ان کی اولین ترجیح ہوا کرتی  تھی۔ ان کی محنت اور کاوشوں کا ثمرہ بھی    مسلمانوں کو  مدتوں ملتا رہا ، مہاراشٹر کے ان تعلیمی اداروں سے  ہزاروں ڈاکٹرس، انجینئرس،اور  مختلف  شعبوں میں ملازمت و خدمات انجام دینے والے افراد  قوم کو ملے اور  ان اسکو لوں نے قوم کی تعلیمی ضرورت کو بڑی حد تک پورا کیا  بعد میں ان اسکولوں کا انتظام دھیرے دھیرے غلط ہاتھوں میں منتقل ہو تا چلا گیا اور اب تقریباً حالت یہ ہے کہ Bombay ،اورنگ آباد،  مالیگاؤں اور کوکن کے علاقے کی چند ایک اسکولوں   کے ماسوا ، اسکولیں ٹارچر سینٹر بنا دی گئیں ہیں۔جہا ں ایک خطیر رقم لیکر   ٹیچرز appointکیے جاتے ہیں۔ چونکہappoinment کرتے وقت   ڈونیشن کی رقم اصل میعار ہوتی ہے اس لئے اکثر ٹیچرز نا اہل ہوتے ہیں ۔ وہ ٹیچر کم اور cheater زیادہ ہوتے ہیں۔  اب جن اسکولوں میں قابل، ایماندار، محنتی اور فرض شناس اساتذہ ہی نااہل ہوں وہاں پڑھائی کا معیار کیوںکر  اعلیٰ ہو سکتا ہے۔   پھر اکثر جگہوں پر مینجمنٹ  اپنے گھر کے لوگوں کو appoint کرتا ہے اور ایسے شخص کو HM بناتا ہے جو کمینہ اور  انتہائی رزیل قسم کا ہو، اسے  آلہِ کار بناکر مینجمنٹ اسٹاف سے، بچوں سے اور اسکول سے  مختلف جھوٹے بہانوں سے پیسے  چھیننے کا کام کر تا رہتا ہے ۔ اگرچہ اب بھی ‌کچھ اسکول اس سے مستثنیٰ ہیں مگر اکثریت کا حال یہی ھے جہاں  جہلا، پڑھے لکھے( جن میں بعض قابل  اؤر ایماندار بھی ھوتے ھیں) لوگوں کا استحصال کرتے ہیں  ۔اکثر جگہوں پر head master  ( دین  اخلاق  اور ایمان سے عاری  ھونے کے سبب)  اسکول کو اپنے باپ کی  جاگیر اور اسٹاف کو غلام سمجھتے ہوےَ ظلم و ستم کی انتہا کرتے ہیں مختلف جھوٹے بہانوں سے پیسے چھیننا اور ٹار چر کرنا  جیسے ان کا شیوہ بن جاتا ہے۔ بعض اسکولوں میں تو  ٹیچرز کو  پریشان کرکے انہیں voluntary retirement لینے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔   ریٹاںٔرمینٹ نا لینے کی صورت میں مزید تکلیفیں پہنچائی جاتی ہیں۔     اب یہ سفید پوش مجرمین جو اپنے مقصد کے حصول کے لیےکچھ بھی کر گزرتے ہیں سماج کی نگاہ میں   شریف   اور نیک نام بنے ہوئے ہیں ۔  مسلم سماج میں  بعض چاپلوسی قسم کے  اور ابن الوقت لوگ ان   سفید پوش مجرمین  کو  بے نقاب کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے بجاۓ ان کے آگے پیچھے دم ہلاتے پھرتے ہیں  ۔جن اسکولوں میں اساتذہ کو انڈر پریشر رکھا جاتا ہو ،جہاں مختلف بہانوں سے پیسے چھیننا ہی  سنستھا چالکوں اور ہیڈ ماسٹر  کا واحد مقصد ہو ، جہاں  اساتذہ کو  مسلسلstress دیا جاتا ہو  وہاں معیاری تعلیم کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔  اگر ہیڈ ماسٹر اور مینجمنٹ mid day meal  کا آدھا مال بیچ دیں ،  non salary کے سارے پیسے جو لاکھوں روپے ہوتے ہیں کا غبن کریں اس س  سماج کو زیادہ فرق نہیں پڑتا مگر ان کی حوص کا سلسلہ یہیں پر نہیں ٔرکتا یہ بھیڑے ٹیچرز، نان ٹیچنگ اسٹاف، حتیٰ کہ بچوں تک کو اپنے حوص کا شکار بنانے ہیں  اور ان سے مختلف بہانوں سے پیسے چھینتے رہتے ہیں   نا دینے کی  صورت میں انہیں ذلیل کرتے ہیں stressدیتے ہیں ،  جس سے سارا تعلیمی نظام  پر باد ہو کر رہ گیا ہے۔  اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان درندوں سے  قوم کو کیسے نجات حاصل ہو ۔ ان کو بے نقاب کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کا کام سماج  کے پا ہمت اور با صلاحیت افراد کو  کرناچاہئے ۔   اہلِ قلم حضرات نے اس طرف توجہ دینی چاہیے اور ریاستی سطح پر ایک مہم چلا کر  قوم کے تعلیمی اداروں کو  پاک کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔   جو شخص بھی قوم و ملت کی  ذرہ بھی ہمدردی  رکھتا ہو  اسے  اس کام میں ہاتھ بٹا نا چاہیے۔   ویسے بھی ان اسکولوں کے گرتے معیار کے سبب لوگوں نے انگلش میڈیم  اسکولوں کا رخ کیا ہے جہاں  40سے 50فیصد  بچوں کو ایڈمیشن دلایا جا رہا ہے  جو ایک اچھا  ٹرینڈ ہے  اس رجحان کو فروغ دینا چاہیے۔ ان بد دیانت،  بد قماش اور بہروپیوں کے سبب اب تک قوم کی  بیشتر نسلیں تباہ ہو چکی ہیں اب مزید تباہی سے بچانے کے لئے  اس طرف توجہ دینا  ضروری ہے۔ یہ  بہروپیے جو خود کو  مسلمان کہتے ہیں ، سماج کو دھوکا دینے کے لئے  نماز کو  بھی آتے ہیں   روزے  بھی رکھتے ہیں  اور  ڈونیشن کی رقم  اور دوسرے غبن کے  پیسوں سے حج کو بھی جاتے ہیں  یعنی  بقولِ شاعر۔   رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گیء ،  ان کے اصل  روپ ، اصل چہرے لوگوں سے  پوشیدہ ہیں    ان کے چہروں پر جو دوہری نقاب ہے وہ ہٹانی ضروری ہے  اور ان کو  کیفر کردار تک پہنچانے کا کام کر نا  اشد ضروری ہے ۔

आमदार फारूक शाह यांच्या विकास कामांचा धडाका सुरूच.

आमदार फारूक शाह यांच्या विकास कामांचा धडाका सुरूच. महानगरपालिका क्षेत्रात मुलभूत सोयी सुविधांचा विकास योजने अंतर्गत धुळे शहरासाठी ५ कोटी मंज...