ســـــاتھی نــــــــہال احـــــمد صاحب نے ہمیں یہ احساس و ذمے داری خوب سمجھائی کہ
قیادت , صداقت اور صدارت کا مطلب کیا ہوتا ہے
اور جنتادل سیکولر کی صدارت بھی ایک کانٹوں بھرے تاج سے کم نہیں
از قلم :شیخ انیس مستری
جنتادل سیکولر شہر مالیگاؤں سے لیکر مہاراشٹر کے صدر رہے ساتھی نہال احمد صاحب کے بعد ساتھی بلــــــند اقــــبال شــــــہر جنتادل سیکولر کے صدر بنے اور انتہائی کم وقت میں شہری سیاست میں اپنی بیبانگ دہل تقریروں کے علاوہ اپنی تعلیمی قابلیت کی بنیادوں پر شہر میں اصول پرستی کی سیاست کرتے ہوئے اپنی ایک منفرد پہچان بنائی جو کہ شہریان کبھی نہیں بھول سکتے ۔۔۔ اور ساتھی نہال احمد صاحب کہ بعد ساتھی بلند اقبال صاحب نے جنتادل پریوار کو ( مرضی مولیٰ ) روتا سِسَکتا چھوڑ گئے
اس کہ باوجود اللہ رب العزت نے جنتادل پریوار کو وہ حوصلہ وہ ہمت بخشی کے جنتادل پریوار کے ورکروں نے ساجدہ میڈم کو ایک ماں کا پیار اور شان ہند کو ایک بہن کا پیار دیا اور ان کے دکھوں میں مددگار بنتے رہے اور انھیں ہمت و حوصلہ دیتے رہے کہ اے ماں مالیگاؤں شہر کی ہر گلیوں میں تجھے بلند اقبال جیسا پیار ملے اور اے بہن شہر کے ہر علاقوں میں تجھے بلند اقبال جیسے بھائی ملیں گے اور ماں بہن اور اپنے چہتے لیڈر ساتھی نہال احمد کی یادوں نے جنتادل پریوار کو ایک مرتبہ پھر پہلے کی طرح ایک ہونے کا موقع دیا یے ۔۔۔
اور جنتادل سیکولر پریوار قیادت کی عظمت کو خوب جانتا ہے اور قیادت اور صدارت کی ذمہ داریاں کیا ہوتی ہیں اور اپنی قوم کی کیا ذمہ داریاں ہم پر واجب ہوتی ہیں
نگاہ کی بلندی اور قیادت کی عظمت
شہری قیادت ایسی ہونی چاہئے جو بلند نگاہ کی حامل ہو اور بلند نگاہی یہ ہے کہ وہ قیادت ایک نظر میں معاملے کی تہہ تک پہنچ جائے, وہ تعلیمی قابلیت رکھتا ہو, وہ دور اندیش ہو اور معاملہ فہم ہو اور اس معاملے کو سامنے رکھ کر وہ امور قیادت سر انجام دے,
شہر کے موجودہ حالات سے اس کے مستقبل کے حالات کو جان لیا جائے, نگاہ کی بلندی ہی شہری حالات کو بلند ہمتی کا جذبہ دیتی ہے اس کے ولولوں اور جزبوں کو جانب منزل گامزن کرتی ہے,
جو قیادت کی نگاہ بلند نہیں ہوتی ہے اس کا جہاں کرگس کے جہاں کی طرح ہے, اور جو شہری قیادت نگاہ بلند ہوتی ہے اس کا جہاں شاہیں کے جہاں کی طرح ہوتا ہے ۔۔۔
اور ہمارے لیڈر ساتھی نہال احمد صاحب نے جنتادل پریوار کو یہی ہمت و حوصلہ دیا ہے
اس پر علامہ اقبالؒ نے کیا خوب کہا ہے کہ
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضاء میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
No comments:
Post a Comment