Tuesday, 24 August 2021

اُلْٹے چُور کوتوال کو ڈانٹے

اُلْٹے چُور کوتوال کو ڈانٹے

( اپنے کرتوت پر شرمانے کے بجائے ٹوکنے والے کو آنکھیں دکھانا)

ازقلم   محمد عمیر انصاری۔
سالانہ دو کروڑ کے MLA فنڈ پر نظر رکھنے والے  اور پچیسوں سال اقتدار کا مزا لوٹنے والے آج کے موجودہ ساڑھے چار سو کروڑ کی سالانہ بجٹ  رکھنے والی کارپوریشن کے برسراقتدار لوگ جن کا پہلا حق یہ بنتا ہے کے شہر کو سدھارے جن کے پاس ساڑھے چار سو کروڑ سالانہ اور پانچ سالوں کا بجٹ دو ہزار دو سو پچاس کروڑ ہے۔وہ شہریوں کے سامنے اپنی ناکامی اور ناکام نمائندگی کو چھپانے کیلئے ۔سالانا دو کروڑ  کے بجٹ رکھنے والے MLA پر اپنی ناکامی کا گڑھا پھوڑنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔لیکن اب کوئی بھی ہتھکنڈا ان کا عوام پر چلنے والا نہیں ہے عوام نے ان کو 20 سے 25 سال تک اقتدار میں رکھا لیکن یہ ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئے آج بھی میئر ان کا ہے میئر فنڈ سے جو کام آسانی سے اور کم وقت میں ہو سکتا ہے وہ کام MLA فنڈ سے نہیں ہوسکتا۔ ساتھی نہال احمد نے اپنے وقت میں مالیگاؤں کو ضلع بنانے کی کوشش کی لیکن موجودہ برسرِ اقتدار نے کارپوریشن  کے مزے لوٹنے کے لئے مالیگاؤں کو ضلع نہیں بننے دیا یہی وجہ رہی کے مالیگاؤں سے بچھڑے دیہات اور شہر ضلع میں تبدیل ہو کر ترقی پذیر ہوئے  جس میں سرفہرست آج ناسک اور دھولیہ ہیں۔ہمیں امید ہے کہ مفتی محمد اسماعیل قاسمی صاحب کچھ کریں یا نہ کریں لیکن مالیگاؤں کو ضلع بنانے کی کوشش ضرور کریں گے اور انشاء اللہ کامیاب رہیں گے۔ ضلع کے MLA کو آس پاس کے دیہاتوں کی وجہ سے زیادہ فنڈ الگ الگ کوٹے سے ملتے ہیں۔ اس کی نسبت کو شہر کے MLAکو مخصوص اور مختص فنڈ ملتا ہے یہ سب جانتے ہیں۔ خیر اللہ رب العزت کا احسان وہ کرم ہے کہ لوگ ہماری پارٹی کے ایم ایل اے کی تعریف کرنے پر مجبور ہے کہ دھولیہ کے مجلس کے MLA نے کیا کام کیا ہے اور آج اللہ پاک نے مجلس کو برا بھلا بولنے والوں کے ہاتھوں ہماری پارٹی کا پرچار کروا رہا ہے۔ شکر الحمدللہ آج وہ دھولیہ کے مجلس کے MLA کی  تعریف کرتے  نہیں تھک رہے ہیں انشاءاللہ کل مالیگاوں کے MLA کی بھی صلاحیت کو قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ایک بات تو یہ کہ آپ کہتے ہو کہ پانچ سال بے مثال تھا اگر پانچ سال بے مثال تھا تو اب کوئی کام بچا ہی نہیں ہونا چاہیے اور اگر بچہ ہے تو بے مثال نہیں تھا یا تو آپ اس وقت جھوٹے یا غلط تھے یا اب جھوٹے یا غلط ہوں۔ آپ کی تعمیرات یا تو ادھوری ہیں یا بند پڑی ہیں تو ایسی تعمیرات سے کیا فائدہ جس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو۔ مفتی صاحب کے MLA بنے کے بعد دو ڈھائی مہینہ سرکار بننے میں چلا گیا اس وقت ان آر سی اور سی اے اے کے معاملات تھے اس موضوع پر نمائندگی کرنا تھی صاحب نے کیا مردوں اور خواتین دونوں کو سڑک پر لا کر تاریخی احتجاج درج کیا اور پورے شہر نے ان کا ساتھ دیا جس پارٹی پر آج آپ فخر کرتے ہو اس پارٹی کو مفتی صاحب نے صرف قوم کے لئے چھوڑا ہے یہ کہہ کر کے چھوڑا کہ آپ نے تین طلاق کے معاملے پر ایوان سے واک آؤٹ کیا اس کی مذمت یا مخالفت نہیں کی جس سے ہمارے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہم آپ کی پارٹی سے نہیں لڑ سکتے۔ جو مسلمانوں کے حقوق کی لڑائی نہیں لڑ تے۔ آپ نے بھی کچھ روز کب جب ان سی پی کی آفیس  ممبئی میں مسلم ریزرویشن کے لیے لیٹر دیا تھا لیکن کیا ہوا ایوان میں صرف مراٹھا ریزرویشن کی آواز اٹھی  آپ کی کوئی حیثیت ہی نہیں رہی اپنی پارٹی میں تو ہم کیسے مان لیں کہ آپ اچھی نمائندگی کر سکتے ہو این سے پی کے پلیٹ فارم سے۔

 مفتی صاحب کا دور آگے بڑھا تو کرونا کی پہلی اور سب سے خوف ناک لہر شروع ہو گئی جیسے ہی ان کا پہلا سال کا فنڈ ریلیز ہوا پورے مہاراشٹرا میں سب سے پہلے MLA ہیں مفتی صاحب جنہوں نے پچاس لاکھ روپیہ کرونا کے لیے دیا اس کے بعد  جو فنڈ آیا وہ روڑ کے لئے ڈاکٹر خالد پرویز اور مستقیم ڈگنیٹی اور اعجاز بیگ  کو دیا یا ابھی الحمدللہ ایک کروڑ کا فنڈ مالیگاؤں سیول ہاسپیٹل کے اندر مالیگاؤں اور آس پاس کے دیہات کے لوگوں کی علاج و  معالجے کے لیے لگایا مفتی اسماعیل قاسمی صاحب شروع سے ہی جو مسائل سامنے درپیش آرہے ہیں ان کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور الحمداللّہ کامیابی ان کے قدم چوم رہی ہے یہی وجہ ہے کہ مخالفین کے پیٹ میں مروڑ ہورہی ہے اور خانے حجم نہیں ہو رہے ہیں اور وہ بد نام کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں۔لیکن

 *مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے*
 *وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے*

 اللہ رب العزت سب دیکھ رہا ہے
*وتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ*
عزت اور ذلت صرف اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی انسان کسی کو ‏نہ عزت دے سکتا نہ ہی کسی کو ذلیل کر سکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی کو عزت دینا چاہے تو پھر ساری دنیا مل کر بھی اسے ذلیل نہیں کر سکتی۔ لیکن اللہ تعالی جب عزت دیتا ہے تو پھر اس کا امتحان بھی لیتا ہے۔ اللہ تعالی پر یقین ہو تو انسان ہر امتحان میں کامیابی حاصل کرلیتا ہے۔ زندگی میں اگر کوئی ناحق آپ کے کردار کو داغدار کرنے کے لیے چوراہے پر کیوں نہ مجمع جمع کرلے، اس وقت بھی اطمینان رکھیں کہ عزت اور ذلت صرف اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے۔ انسان کتنا بھی سرکش کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔وہ اپنی زبان سے صرف نازیبا کلمات ہی نکال سکتا ہے۔نیک انسان کے ہاتھ میں صرف محنت اور کوشش ہے۔ کامیابی اللہ دیتا ہے ۔ بیشک عزت اور ذلت دونوں ہی اللہ رب العالمین کے ہاتھ میں ہے

No comments:

Post a Comment

आमदार फारूक शाह यांच्या विकास कामांचा धडाका सुरूच.

आमदार फारूक शाह यांच्या विकास कामांचा धडाका सुरूच. महानगरपालिका क्षेत्रात मुलभूत सोयी सुविधांचा विकास योजने अंतर्गत धुळे शहरासाठी ५ कोटी मंज...