آزادی کے بعد جب ملک میں تعلیم کو بہت فروغ دینا شروع ہوا تو ہر گاؤں ہر شہر اور قصبے میں اسکولیں قائم کی گئیں اور پھر یہ کہ مادری زبان میں تعلیم دینے پر زور دیا گیا۔اسی مقصد کے تحت ریاست مہاراشٹر میں بھی اردو میڈیم کی اسکولیں بڑے پیمانے پر قائم ہوئیں ۔ان اسکولوں کو private management کے زیرِ انتظام دیا گیا۔ ابتداء میں مینیجمنٹ میں سماج کے مخلص افراد شامل ہوا کرتے تھےجو کرپشن ،بد دیانتی ،اور حرص و حوص سے پاک ہوتے تھے۔ ان کا مقصد مسلمانوں کے بچوں کو اعلیٰ اور معیاری تعلیم دینا ہوا کرتا تھا اس مقصد کے حصول کے لیے وہ قابل ترین، فرض شناس اور صالح اساتذہ کا تقرر کیا کرتے تھے اور ادارہ کو ہر طرح کے کرپشن سے پاک رکھنا ان کی اولین ترجیح ہوا کرتی تھی۔ ان کی محنت اور کاوشوں کا ثمرہ بھی مسلمانوں کو مدتوں ملتا رہا ، مہاراشٹر کے ان تعلیمی اداروں سے ہزاروں ڈاکٹرس، انجینئرس،اور مختلف شعبوں میں ملازمت و خدمات انجام دینے والے افراد قوم کو ملے اور ان اسکو لوں نے قوم کی تعلیمی ضرورت کو بڑی حد تک پورا کیا بعد میں ان اسکولوں کا انتظام دھیرے دھیرے غلط ہاتھوں میں منتقل ہو تا چلا گیا اور اب تقریباً حالت یہ ہے کہ Bombay ،اورنگ آباد، مالیگاؤں اور کوکن کے علاقے کی چند ایک اسکولوں کے ماسوا ، اسکولیں ٹارچر سینٹر بنا دی گئیں ہیں۔جہا ں ایک خطیر رقم لیکر ٹیچرز appointکیے جاتے ہیں۔ چونکہappoinment کرتے وقت ڈونیشن کی رقم اصل میعار ہوتی ہے اس لئے اکثر ٹیچرز نا اہل ہوتے ہیں ۔ وہ ٹیچر کم اور cheater زیادہ ہوتے ہیں۔ اب جن اسکولوں میں قابل، ایماندار، محنتی اور فرض شناس اساتذہ ہی نااہل ہوں وہاں پڑھائی کا معیار کیوںکر اعلیٰ ہو سکتا ہے۔ پھر اکثر جگہوں پر مینجمنٹ اپنے گھر کے لوگوں کو appoint کرتا ہے اور ایسے شخص کو HM بناتا ہے جو کمینہ اور انتہائی رزیل قسم کا ہو، اسے آلہِ کار بناکر مینجمنٹ اسٹاف سے، بچوں سے اور اسکول سے مختلف جھوٹے بہانوں سے پیسے چھیننے کا کام کر تا رہتا ہے ۔ اگرچہ اب بھی کچھ اسکول اس سے مستثنیٰ ہیں مگر اکثریت کا حال یہی ھے جہاں جہلا، پڑھے لکھے( جن میں بعض قابل اؤر ایماندار بھی ھوتے ھیں) لوگوں کا استحصال کرتے ہیں ۔اکثر جگہوں پر head master ( دین اخلاق اور ایمان سے عاری ھونے کے سبب) اسکول کو اپنے باپ کی جاگیر اور اسٹاف کو غلام سمجھتے ہوےَ ظلم و ستم کی انتہا کرتے ہیں مختلف جھوٹے بہانوں سے پیسے چھیننا اور ٹار چر کرنا جیسے ان کا شیوہ بن جاتا ہے۔ بعض اسکولوں میں تو ٹیچرز کو پریشان کرکے انہیں voluntary retirement لینے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ ریٹاںٔرمینٹ نا لینے کی صورت میں مزید تکلیفیں پہنچائی جاتی ہیں۔ اب یہ سفید پوش مجرمین جو اپنے مقصد کے حصول کے لیےکچھ بھی کر گزرتے ہیں سماج کی نگاہ میں شریف اور نیک نام بنے ہوئے ہیں ۔ مسلم سماج میں بعض چاپلوسی قسم کے اور ابن الوقت لوگ ان سفید پوش مجرمین کو بے نقاب کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے بجاۓ ان کے آگے پیچھے دم ہلاتے پھرتے ہیں ۔جن اسکولوں میں اساتذہ کو انڈر پریشر رکھا جاتا ہو ،جہاں مختلف بہانوں سے پیسے چھیننا ہی سنستھا چالکوں اور ہیڈ ماسٹر کا واحد مقصد ہو ، جہاں اساتذہ کو مسلسلstress دیا جاتا ہو وہاں معیاری تعلیم کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ اگر ہیڈ ماسٹر اور مینجمنٹ mid day meal کا آدھا مال بیچ دیں ، non salary کے سارے پیسے جو لاکھوں روپے ہوتے ہیں کا غبن کریں اس س سماج کو زیادہ فرق نہیں پڑتا مگر ان کی حوص کا سلسلہ یہیں پر نہیں ٔرکتا یہ بھیڑے ٹیچرز، نان ٹیچنگ اسٹاف، حتیٰ کہ بچوں تک کو اپنے حوص کا شکار بنانے ہیں اور ان سے مختلف بہانوں سے پیسے چھینتے رہتے ہیں نا دینے کی صورت میں انہیں ذلیل کرتے ہیں stressدیتے ہیں ، جس سے سارا تعلیمی نظام پر باد ہو کر رہ گیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان درندوں سے قوم کو کیسے نجات حاصل ہو ۔ ان کو بے نقاب کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کا کام سماج کے پا ہمت اور با صلاحیت افراد کو کرناچاہئے ۔ اہلِ قلم حضرات نے اس طرف توجہ دینی چاہیے اور ریاستی سطح پر ایک مہم چلا کر قوم کے تعلیمی اداروں کو پاک کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ جو شخص بھی قوم و ملت کی ذرہ بھی ہمدردی رکھتا ہو اسے اس کام میں ہاتھ بٹا نا چاہیے۔ ویسے بھی ان اسکولوں کے گرتے معیار کے سبب لوگوں نے انگلش میڈیم اسکولوں کا رخ کیا ہے جہاں 40سے 50فیصد بچوں کو ایڈمیشن دلایا جا رہا ہے جو ایک اچھا ٹرینڈ ہے اس رجحان کو فروغ دینا چاہیے۔ ان بد دیانت، بد قماش اور بہروپیوں کے سبب اب تک قوم کی بیشتر نسلیں تباہ ہو چکی ہیں اب مزید تباہی سے بچانے کے لئے اس طرف توجہ دینا ضروری ہے۔ یہ بہروپیے جو خود کو مسلمان کہتے ہیں ، سماج کو دھوکا دینے کے لئے نماز کو بھی آتے ہیں روزے بھی رکھتے ہیں اور ڈونیشن کی رقم اور دوسرے غبن کے پیسوں سے حج کو بھی جاتے ہیں یعنی بقولِ شاعر۔ رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گیء ، ان کے اصل روپ ، اصل چہرے لوگوں سے پوشیدہ ہیں ان کے چہروں پر جو دوہری نقاب ہے وہ ہٹانی ضروری ہے اور ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا کام کر نا اشد ضروری ہے ۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
आमदार फारूक शाह यांच्या विकास कामांचा धडाका सुरूच.
आमदार फारूक शाह यांच्या विकास कामांचा धडाका सुरूच. महानगरपालिका क्षेत्रात मुलभूत सोयी सुविधांचा विकास योजने अंतर्गत धुळे शहरासाठी ५ कोटी मंज...
-
کانگریس پہلے 1600 کروڑ کا حساب دے پھر اسکے بعد دو کروڑ کا حساب مانگے وارڈ نمبر 21 کی میٹنگ میں موسلادھار بارش کے باوجود عوام کا زبردست ہجوم ...
-
سلسلۂ قادریہ و چشتیہ کا حسین سنگم سرکار صابرِ پاک کی ذات ہے *(آلِ رسول سیّد محمدامین القادری صاحب قبلہ)* *اتحاد اہل سنّت کیلئے مزید استقام...
-
آدھار کارڈ سے موبائل نمبر لنک کرنے کا سنہری موقع ، پوسٹ آفس کے اشتراک سے اردو میڈیا سینٹر میں چار روزہ کیمپ، عوام فائدہ اٹھائیں ...
No comments:
Post a Comment