Tuesday, 5 October 2021

مسلمان سیکولزرم کے ٹھیکیدار نہیں علمبردار بنیں

مسلمان سیکولزرم کے ٹھیکیدار نہیں علمبردار بنیں
سبق پڑھ پھر صداقت کا شجاعت کا عدالت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
ازقلم:مدثر نذیر گوہر
         مالیگاؤں (احرار نیوز نیٹ ورک) 3,اکتوبر: ہم اپنی تاریخ نہیں بھولے پھر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا وجہ ہیکہ بائیس لاکھ مربع میل پر  اور ہندوستان پر چھ سو سال تک حکمرانی کی سند رکھنے والی امت مسلمہ ہندوستان میں اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھ رہی ہے۔ فی الحال جس دور سے گزر رہی ہے اس کی نظیر نہیں ملتی ملک میں بادشاہ گر کی قوت یافتہ  امت مسلمہ گذشتہ آٹھ سالوں سے بے وقعت ہوکر رہ  گئی ہے قوم کی زبوں حالی کا جائزہ لیں تو ان گنت  اسباب میں سے سیاسی لاشعوری اور قوم مسلم کا جذباتی ہوجانا بھی ایک سبب ہے آزادی کے بعد سے 2014 تک اکھنڈ بھارت کیلئے مسلسل تگ ودو  کرنے والی آر ایس ایس اور دیگر ہندو توادی تنظیموں نے مختلف ہتھکنڈے اپنانے بعد بھی گنگا جمنی  تہذیب کی شناخت رکھنے والے ملک پر مکمل اکثریت حاصل کرنے میں ناکام و نامراد ہی رہی جس کا سہرا مسلم رہنماؤں اور ملک کے سیکولر برداران وطن کے سر جاتا ہے ہمارے اسلاف نے کبھی بھی اپنے آپ کو بطور مسلم لیڈر شپ پیش نہیں کیا کیونکہ وہ دوراندیش تھے اور جانتے تھے کہ مسلم لیڈر شپ یا الگ مسلم نمائندہ سیاسی جماعت بنانے سے فسطائی طاقتوں کو ہی فائدہ ملے گا  اور وہ با آسانی اقتدار کی راہ ہموار کرلینگے جس کا خمیازہ قوم مسلم کو ہی اٹھانا پڑے گااور آج ہم اور آپ دیکھ بھی رہے ہیں کہ مفاد پرستی سے سرشار دو کلاس زیادہ پڑھے ہوئے شخص کے بول بچن سے مذہبی منافرت کی چنگاری شعلہ بن کر پورے ملک میں دہک رہی ہے جس کی لپیٹ میں صرف اور صرف مسلمان ہی آرہے ہیں   پورے ملک کی تہذیب و ثقافت کو زعفرانی رنگ میں رنگ کر مسلمانوں کو حاشیہ پر ڈال کر دوسرے نمبر کا شہری بھی نہیـــں بلکہ اپنی صفوں سے باہر کردینے  کی کوشش کی جارہی ہے اور  آنجناب مسٹر اسد الدین اویسی پوری قوم کو جذباتی بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ *کیا سیکولرازم کا ٹھیکہ صرف مسلمانوں نے لے رکھا ہے؟*
تو میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہاں مسلمانوں نے ہی سیکولرازم کا ٹھیکہ لے رکھا ہے کیونکہ جب جب ظلمت وضلالت کی تاریکی بڑھی عدل و انصاف کا فقدان ہوا  ملک غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہو یا پھر انسانیت دم توڑ کر سسک رہی ہو تو ہمارے اسلاف نے ہی راہ امن دکھائی ہے کیونکہ اسلام کا امتیاز ہیکہ اس نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو سماج و معاشرہ کی خدمت کرو اور ضرورت مندوں کے کام آؤ اور 
 ارشاد باری تعالیٰ بھی  ہیکہ *تم بہترین امت ہو جو دوسروں کی بھلائی کیلئے نکالی گئی ہو* (سورہ آل عمران )
لہذا میری  علمائے کرام دانشوروں اور قوم کے سرکردہ شخصیات سے یہی اپیل ہیکہ فرقہ پرستی، ہوس پرستی اور نفس پرستی کے بھوت پر سوار اپنی جماعت اپنا لیڈر کے فتنے کا قلع قمع کریں اور ملک میں پھر سے سیکولر حکومت کے قیام کی کوشش کریں
اسدا لدین اویسی کے "اپنی جماعت اپنا لیڈر اور کیا سیکولرازم کا ٹھیکہ صرف مسلمانوں نے لے رکھا ہے؟" کے فتنہ کو ختم کرنے سے پہلے اس بات پر دھیان دینا ضروری ہیکہ ہندوستان کی کل آبادی میں مسلمانوں کا تناسب محض 18 سے 20,فیصد ہے جو ملک کی ہر ریاست میں بٹے ہوئے ہیں۔ جب اپنی جماعت اپنا لیڈر کی بات ہوگی تو مسلمان تناسب کے حساب سے کہیں بھی اکثریت حاصل نہیں کرسکے گا۔ لیکن فرقہ پرستی کا زہر اتنی شدت سے پھیلے گا کہ صرف جنگ و جدال ہی مقدر ہوگا۔ ان سب سے بڑھ کر مسلمان مسلمان کا نعرہ لگانے والوں کو پڑوسی ممالک بنگلہ دیش، پاکستان اور امغانستان کے حالات بھی دیکھنا چاہیئے۔ ان سب سے بہتر یہ ہیکہ ملک میں جمہوریت کی بقاء کیلئے ان سیاسی پارٹیوں کو مضبوط کریں جو سب کو ساتھ لیکر چلنے کا ہنر جانتی ہوں۔ مسلمان بھلے سیکولرزم کا ٹھیکہ نہ لے لیکن فسطائی طاقتوں سے پوری شدت کیساتھ لڑنے والوں کا ساتھ دیں تو ملک ہندو مسلم ہم آہنگی سے پھر سے جنت نشاں بن سکتا ہے۔

No comments:

Post a Comment

आमदार फारूक शाह यांच्या विकास कामांचा धडाका सुरूच.

आमदार फारूक शाह यांच्या विकास कामांचा धडाका सुरूच. महानगरपालिका क्षेत्रात मुलभूत सोयी सुविधांचा विकास योजने अंतर्गत धुळे शहरासाठी ५ कोटी मंज...