منیار ڈیم پر آنکھوں دیکھا حال
*9 بج کر 37 منٹ پر منیار ڈیم پر میں شاکر علی اور میرا دوست ظفر اقبال پہنچے، ہمارا مقصد یہ تھا کہ سماجی کارکنان کی خدمات کو دیکھنا کہ وہ کیسے کام کرتے ہیں، ہم نے دیکھا کہ مفتی اسماعیل قاسمی صاحب چند ساتھیوں کے ساتھ ایک بڑے پتھر پر بیٹھے ہوئے ہیں، شکیل تیراک اور فائر بریگیڈ کا عملہ لاش کو ڈھونڈنے میں مصروف ہیں، تو وہیں شفیق اینٹی کرپشن بھی موجود ہیں، کچھ قدم آگے کی جانب بڑھے تو وہاں خالد سرحدی اور اسماعیل پلمبر، شعیب پلمبر، اپنی بساط کے مطابق چائے ناشتے کے انتظام میں دکھائی دیئے، شکیل تیراک کی مسلسل کوشش جاری رہی، ہم یہ بھی معلومات لیتے رہے کہ رات میں یہاں اور کون کون لوگ موجود تھے کس نے کیا تو پتہ چلا کہ جس وقت شکیل تیراک کو شفیق اینٹی کرپشن کے ذریعے شکیل تیراک کو منیار ڈیم کسی لڑکے کی ڈوبنے کی خبر ملی اس وقت منیار ڈیم کے پیچھے ہی تھی اور شکیل تیراک بڑی تیزی کے ساتھ جائے حادثہ پر پہنچے، اور تلاش کی شروعات کردی رات میں بڑی چارچ کے لئے مطالبہ کیا گیا پھر حسن پورہ کے معروف شوشل ورکر جمال ناصر اپنے رفقاء کے ساتھ جنریٹر لے کر پہنچ گئے وہیں شفیق حاجی صاحب بھی مدد کے لئے حاضر تھے ، قلعہ تیراک گروپ ساجد عبدالرشید (کارپوریٹر) کی سرپرستی میں حاضر ہو گئے، انہوں نے بھی کوشش کی لیکن ناکامی ہاتھ آئی، اور یہ لوگ واپس مالیگاؤں لوٹ آئے، پھر صبح بعد نماز فجر شفیق اینٹی کرپشن شکیل تیراک کو لے ڈیم پر پہنچ گئے، شکیل تیراک کی صبح سے کوششیں جاری تھی کہ شام 4 بجے ضیاء مسکان اورکارپوریٹر ساجد عبد الرشید کے ہمراہ قلعہ تیراک گروپ وارد ہوئے، اس وقت کسی گروپ نے تعویذ سبھی تیراک کے ہاتھوں میں باندھ دی، اور اللہ تعالیٰ کے نے اپنا کرم کیا اور شکیل تیراک کے ہاتھوں ذیشان کی لاش ملی، صبح سے لاش ملنے تک وہاں کے کرن پاٹل (سرپنچ) اور دیگر برادران وطن نے بھی کھانے چائے وغیرہ کا انتظام کیا،لڈو بلڈر گروپ نے پینے کے پانی کا نظم کیا تھا،*امتیاز بلڈر، خالد ایس کے فریج والے، عارف خان، عبدالستار بھائی ایمبولینس والے، ضیاء مسکان بھی تیراک گروپ کا حوصلہ افزائی کے خیمہ زن تھے، جبکہ حسن پورہ میں مرحوم کے گھر پر سیوک سوسائٹی کے رضوان سیوک، منصور اکبر(داستان شہر) مزمل سیف، اخلاق انصاری وغیرہ حاضر تھے
پوسٹ بائے
خالد سرحدی صاحب سماجی خادم
No comments:
Post a Comment