Saturday, 25 September 2021

خلیل بھاٸی بیکری والے کو گرووار وارڈ کی صدارت ملنے پر استقبالیہ تقریب جلسہ میں تبدیل

خلیل بھاٸی بیکری والے کو گرووار وارڈ کی صدارت ملنے پر استقبالیہ تقریب جلسہ میں تبدیل
ڈاکٹر خالد پرویز کا گرووار وارڈ کے نوجوانوں کو بامقصد فکر انگیز پیغام ۔ مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری پر مذمتی تجویز کو حاضرین نے ہاتھ اٹھا کر منظوری 
زندہ باد ، مردہ باد چھوڑ کر مجلس اتحادالمسلمین کو مضبوط کرنے اور وارڈ کو مثالی بنانے کی گذارش
 کانگریس کو لات مار کر ساجد شاہ مجلس میں شامل ، کٸی کلبوں کا افتتاح


مالیگاٶں (24 ستمبر) ۔ سیلانی چوک میں مجلس پاسبان آٸین کے تحت منقعدہ استقبالیہ تقریب عظیم الشان جلسے کی شکل اختیار کر گٸی ۔ ہجوم کا یہ عالم تھا کہ لوگ اسٹیج کے پیچھے اور اطراف کی گلیوں میں کھڑے نظر آٸے ۔ یہ تقریب استقبالیہ خلیل بھاٸی بیکری والا کے اعزاز میں منعقد کی گٸی ۔ جنہیں صدر شمالی مہاراشٹر مجلس اتحادالمسلمین الحاج ڈاکٹر خالد پرویز صاحب نے گرووار وارڈ مجلس کی صدارت سونپی ۔ 
اس تقریب استقبالیہ کی صدارت شہر کی مشہور شخصیت محترم حاجی جمیل اختر صاحب (لبیک آر او واٹر) نے کی جبکہ نظامت کے فراٸض اسمعیل سردار صاحب نے کی ۔ جبکہ ترجمان مجلس سمیر سر ، غازی امان اللہ خان ، مجاور مالیگانوی کے علاوہ وارڈ نمبر 18 کی مشہور و معروف شخصیات رونق اسٹیج تھیں ۔ 
حاضرین کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر سے خطاب کرتے ہوٸے ڈاکٹر خالد پرویز نے ملک میں جاری حالات و واقعات بیان کرتے ہوٸے کہا کہ آج ملک میں ایک منظم سازش کے تحت حالات پیدا کیۓ جارہے ہیں ۔ مسلمانوں کے سرکردہ افراد کو مختلف جھوٹے الزامات لگاکر جیلوں میں ٹھونس دیا جاتا ہے ۔ 
مولانا کلیم نعمانی صاحب کی گرفتاری کے خلاف حاضرین کی مکمل تاٸید سے ایک مذمتی تجویز منظور کی گٸی ۔ ڈاکٹر خالد پرویز نے کہا کہ مولانا کلیم صدیقی پر مختلف الزامات لگا کر انکو گرفتار کرلیا گیا ۔ اور کورٹ انکو 10 دن کی پولس کسٹڈی دے دی گٸی ۔ ڈاکٹر ذاکر ناٸیک پر الزام لگایا گیا ۔ اسلامی تعلیمات کی تبلیغ کرنے والوں پر کرونا پھیلانے کا الزام لگایا گیا ۔ اور تبلیغی جماعت پر پابندی عاٸد کرنے کی بات کی جانے لگی ۔ لیکن اشتعال انگیز نعرے لگانے والوں اور ملک میں قانون اپنے ہاتھ میں لینے والی فسطاٸی طاقتوں بجرنگ دل ، آر ایس ایس ، وشوہندو پریشد اور ہندو سینا جیسی تنظیموں کے خلاف کوٸی کارواٸی نہیں کی جاتی ۔ 
کبھی این آر سی کے نام پر مسلمانوں کی آبادی کو کم کرنے کا پلان بنایا جاتا ۔ کبھی تین طلاق کی آڑ میں شریعت میں مداخلت کی جاتی ۔ اور احتجاج کرنے والے اور فرقہ پرستوں کے ظلم کا شکار بننے والے معصوم مسلمانوں پر ہی کیس درج کرکے جیلوں میں بند کردیا جاتا ۔ حکومت وقت کو للکارتے ہوٸے کہا ہم اس ملک مں باپ دادا کے زمانے سے رہتے آٸے ہیں ۔ ہمارے اجداد نے یہیں کی مٹی کو اپنا کفن بنایا ۔ ہم مرنے کے بعد بھی اس مٹی میں ہی رہیں گے ۔ فرقہ پرست تنظیموں کا ہمیں اس ملک سے نکالنے کا خواب خواب ہی رہ جاۓ گا ۔ قوم کو پیغام دیتے ہوٸے ڈاکٹر خالد پرویز نے کہا کہ آج وقت بیدار رہنے ، صحیح سیاسی فیصلے کرنے اور سیاسی جہاد کا ہے ۔ ہمارے غلط فیصلوں سے ہم آج یہ دن دیکھ رہے ہیں ۔ ہمیں بیدار رہنے ، صحیح سیاسی فیصلے کرنے اور سیاسی جہاد کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر ہم آج نہیں جاگے تو ہماری آٸندہ نسلوں کا مستقبل تباہ و بربا ہجاۓ گا ۔ 
قومی میڈیا کا کردار بیان کرتے ہوٸے ڈاکٹر خالد نے کہا کہ ہمارا میڈیا ملک کے سلگتے مساٸل کو چھوڑ کر نازک معاملات کو خوب اچھال کر آگ میں گھی ڈالنے کا کام کررہے ہیں ۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی کے سوا ظلم کے خلاف کوٸی لڑنے اور آواز اٹھانے کو تیار نہیں ۔ اسی لیۓ فرقہ پرست جنونی تنظیمیں ان کی آواز بند کرنے کے درپے ہے ۔ اسدالدین اویسی صاحب کے مکان پر تین حملے ، اتر پردیش میں ان پر تین مقدمے اس بات کا ثبوت ہیں ۔ کیونکہ اسدالدین اویسی میدانوں سے لے ایوانوں تک گونجتے ہیں اور مظلوموں ، محروموں کی آواز بند کرتے ہیں ۔ لیکن ان پر B ٹیم ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے اور ہمارے اپنے کچھ لوگ ان باتوں پر یقین کرلیتے ہیں ۔ جنہوں نے ستر سال تک مسلسل ہم پر ظلم کیا ہمارا استحصال کیا ہم ان پر ہی تکیہ کیۓ ہوۓ ہیں ۔ ہم اپنی تباہی کے فیصلے خود کررہے ہیں ۔ اپنے آپ کو خود ہی مقتل میں پیش کرکے نام نہاد سیکولروں کے انتظار میں بیٹھے ہیں ۔ 
مجلس کے نظریات کے پھیلاٶ کے بارے میں کہا کہ ہم نے آنے والے وقت کی آہٹ کو محسوس کرکے مجلس کے نظریات کو ہر خاص و عام تک پہنچانے کو اپنا نصب العین بنالیا ہے ۔ اور پارٹی ہاٸی کمان نے ہم پر اعتماد کرکے ایسی ذمہ داری دی کہ آج تک شہر مالیگاٶں میں اتنی بڑی ذمہ داری اور عہدہ کسی اور پارٹی کے ماننے والوں کو نہیں ملا ۔ 
کانگریس اور اس سے جنم لینے والی راشٹروادی کانگریس اپنی تباہی کے لیۓ خود ذمہ دار ہیں ۔ راہل گاندھی اپنی آباٸی سیٹ سے الیکشن نہیں جیت سکے ۔ اسے ایک اداکارہ نے ناچنے گانے والی نے شکشت سے دوچار کردیا ۔ 
شہر کے حالات کا ذکر کرتے ہوٸے انہوں نے شہر کے مساٸل کو بیان کیا اور کارپوریشن برسراقتدار کی ناکامیوں کو گناتے ہوٸے کہا کہ صرف اپنا اقتدار بچانے اور ٹھیکیداری کرکے مال جمع کرنے کے لیۓ تعمیر و ترقی کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے ۔ جبکہ شہر کا یہ حال ہے کہ ذرا سی بارش میں سڑکوں پانی سے لبریز ہوجاتی ہیں ۔ گٹروں گندہ کا پانی سڑک پر آجاتا ہے ۔ شہر میں وباٸی بیماریوں کا زور ہے ۔ اور ناندیڑی اسکول ، جعفر نگر وغیرہ میں تیار شدہ ہاسپٹل جاری کرنے کے لیۓ ان کے پاس وقت اور روپیہ نہیں ہے ۔ بلکہ پہلے سے جاری علی اکبر کی تعمیر جدید کے لیۓ وقت اور روپیہ آجاتا ہے ۔ 
شیخ رشید خانوادے پر تنقید کرتے ہوٸے ببانگ دہل کہا کہ شہر میں تخریبی سیاست اسی خاندان کی دین ہے ۔ اپنے گھر کے افراد کو گھروں میں بیٹھا کر قوم کے سرمایہ اور قوم کے مستقبل سمجھے جانے والے نوجوانوں کو اپنے سیاسی مفاد کے لیۓ آپس میں لڑوانے کی سیاست کررہے ہیں ۔ اگر ان میں اتنی ہی ہمت اور مردانگی ہوتی تو ہمارے مقابلے میں یہ لوگ اپنے گھر کے افراد کو لاتے ۔ ہم ان سے ہر طرح سے مقابلے کے لیۓ تیار ہیں ۔ 
نوجوانوں کو فکر آمیز پیغام دیتے ہوٸے کہا کہ آپ لوگ ایسے لوگوں کی گندی اور تخریبی سیاست کی بھینٹ نہ چڑھیں ۔ جب وقت آٸے گا تو ان سے خود ہی نپٹ لیں گے ۔ آپ لوگ انکی سیاست کا ایندھن بننے کی بجاۓ وارڈ کے مساٸل ، اپنے اہل و عیال کی تعلیمی ، معاشی اور سماجی ترقی کی کوشش کریں ۔ ہم نے کبھی نوجوانوں کو زندہ باد مردہ باد اور ورغلا کر آپس میں لڑوانے اور اپنا سیاسی مفاد نکالنے کی سیاست نہیں کی ۔ آج شہر کی عوام نے ہمارا تاریخی استقبال کیا تو انکے پیٹ میں مروڑ ہونے لگا ۔ لیکن انکو یہ نہیں پتہ کہ نقل کے لیۓ عقل کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔ عوام کے پیسوں کو لوٹ کر یہ اپنا الو سیدھا کررہے ہیں ۔ ڈی جے بجواکر نوجوانوں کو نچوا رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنے 23 سالہ اقتدار میں بلی پترا قرض معاف نہیں کرواسکے ۔ بچت گٹ اسکیم کے نام پر خواتین کو بےوقوف بنارہے ہیں ۔ شہید عبدالحمید روڈ کا بجٹ غاٸب کردیۓ ۔ اور صحافیوں کے سوال کرنے پر پریس کانفرنس میں سوال کرنے والوں ڈانٹ کر خاموش کردیا جاتا ہے ۔ ان کے کالے کارنامے اتنے ہیں کہ لکھتے لکھتے قلم کی روشناٸی خشک ہو جاۓ گی ۔ 
گرووار وارڈ کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ یہ وارڈ ہمارا ہے ، یہاں کے لوگ ہمارے ہیں ، ہم نے یہاں رہاٸش اختیار کی ۔ یہاں کےلوگوں نے ہم کو عزت دی ، ہم کو اپنا پیار دیا اور اس وارڈ کو مثالی ، ترقی یافتہ ، اور سہولتوں سے آراستہ کرنے کےلیۓ ہم آپ سے اسی پیار اور اپناٸیت کی امید رکھتے ہیں جیسا کہ چار سال قبل ہم کو ملی تھی ۔ یہاں کے لوگوں کو آگرہ روڈ کے اُس پار کی قیادت کی ضرورت نہیں 

No comments:

Post a Comment

आमदार फारूक शाह यांच्या विकास कामांचा धडाका सुरूच.

आमदार फारूक शाह यांच्या विकास कामांचा धडाका सुरूच. महानगरपालिका क्षेत्रात मुलभूत सोयी सुविधांचा विकास योजने अंतर्गत धुळे शहरासाठी ५ कोटी मंज...