اقلیتوں اور مسلمانوں پر مظالم کے خلاف مالیگاؤں سے سرکردہ افراد کی مذمت احتجاج انتباہ و انصاف کا مطالبہ
مالیگاؤں( پریس ریلیز) انگریزی سامراج کا دودھ پی کر جوان ہونے والی یہ فرقہ پرست اور فسطائی طاقتیں اِنہیں جب جب موقع ملتا رہا یہ میناریٹیزکو اقلیتوں کو اپنے مظالم کا نشانہ بناتی رہی اِن کی ریشہ دوانیاں دن بہ دن بڑھتی جارہی ہیں ماب لنچنگ ہجومی تشدد متعصبانہ روایا الزام تراشی انبیاء اور بزرگوں کی شان میں آئے دن گستاخی وہیں حالیہ دنوںمکہ مکرہ اور مدینہ شریف میں غیر شرعی عبادت گاہوں کا قیام جوئے خانے اور سنیماگھروں کو منظوری سارے عالم میں تشویس کا ماحول پیدا کررہی ہے وہیں مولانا کلیم اللہ صدیقی صاحب کو بلاوجہ اے۔ٹی ایس کی جانب سے گرفتار کیئے جانے پر سارے ملک میں مذمت کا ماحول ہےوہیں مسلمانوں اور اقلیتوں کے حق میںصدائے احتجاج بلند کرنے والے اسد الدین اویسی کی سرکاری رہائش گاہ پر حملہ نیز آسام میں انتظامیہ و حکام کی بربریت کی وائرل ہوتی ہوئی تصویریں ملک کی اقلیتوں اور مسلمانوں میں خوف و رہاس کا ماحول پیدا کررہی ہے جمہوریت کے علمبردار مانے جانے والے اس ملک میں ہم اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں اِن تمام باتوں کو لیکر آل انڈیا سنی جمعیۃ اسلام شاخ مالیگاؤں ،آل انڈیا علماء بورڈ، سنّی تعزیہ کمیٹی ، راشٹریہ مسلم مورچہ ،اتحاد الصوفیہ بورڈ، درگاہ حضرت معصوم شاہ کیمپس سمیت باالخصوص جانشین صوفیٔ ملّت نورالعین صابری ،سیٹھ محمد اکبر اشرفی، محمد جاوید انور ، صوفی انیس قادری صاحب ،ریاض احمدعطر والاوغیرہ نے مشترکہ طور پر اِن تمام باتوں کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور حکومتِ وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سلسلے کو اب بند کردیا جائے وگرنہ اِن صابرین کا پیمانہ چھلک سکتا ہے ملک اور دنیا سے جمہوریت کو ختم کیا جارہا ہے ایسے میں اقلیتوں اور مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق کی سخت ضرورت ہے وگرنہ ہم مذکورہ تنظیمیں اور افراد اِس کے لیئے سخت مذمتی تحریک چلائیں گے ۔مقامی سطح پر بھی اس کے لئے اظہارِ احتجاج درج کرایا جائیگا۔
No comments:
Post a Comment