تعمیری پسند انسانیت نواز کارپوریٹر نعیم پٹیل کی چار سالہ کارکردگی
الیکشن کہ کامیابی کے بعد دو دن وارڈ کے ہاوس ٹو ہاوس ملاقات کی مسائل کی جانکاری لی
وارڈ نمبر19 انصار گنج سے لیکر رونق آباد تک ایک ٹیم کھڑی کی تاکہ ووٹروں کے روزمرہ کہ آنے والے مسائل باسانی ان تک پہنچ جائے
اپنی معیاد کے پہلے سال بجٹ انصار گنج کہ بنیادی مسائل روڑ؛ گٹر ؛ گٹر سیلب ایل اے ڈی لائٹ مختص کیا اور ورک آرڈر ہوتے ہی جنگی پیمانے پر معیاری کاموں کی شروعات کی
کارپوریشن میں صفائی کرمچاری کا عدم فقدان ہونے کی وجہ سے اپنی ذاتی خرچ پگار پر صفائی کرمچاری کی ٹیم کھڑی کی اور روزآنہ وہ بلا ناغہ صبح سے شام تک وارڈ میں محترک رہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ جگہ جگہ کچرہ کنڈی کہ لیئے پلاسٹک کہ ڈرم کا نظم کیا
دوسرے سالہ بجٹ میں گلشن آباد عشمان آباد کو ٹارگیٹ کرتے ہوئے بجٹ مختص کیا اور یہاں کہ بنیادی مسائل روڑ گٹر گٹرسلیب الیکٹرک پول کہ مسائل کو حل کیا اور ساتھ ہی انصار گنج میں گلیوں کا نمبر بورڈ آویزاں کرکہ گلی محلوں کو چار چاند لگایا
تیسرے سال لاک ڈان کا عتاب جھیل رہی دنیا ہندوستان کہ ساتھ مالیگاوں بھی جھیل رہا تھا وارڈ نمبر19 غریب مزدور افراد پر مشتمل وارڈ تھا جہاں روز کمانے کھانے والے افراد خانہ کی تعداد زیادہ تھی ایسے مشکل وقت میں وارڈ کہ کئی محلے میں اپنی ذاتی رقم سے اناج راشن نقدی اور لاک ڈاون کہ درمیان آنے والے رمضان میں رمضان کٹ کھجور پھل فروٹ کی تقسیم کی
جاری سال میں کریم نگر میں جنگی پیمانے پر تعیمری کاموں کا سلسہ شروع ہے جن میں روڑ گٹر گٹر سلیب ایل اے ڈی لائٹ وغیرہ ہے
اور ان سب سب بڑا کارپوریٹر نعیم پٹیل کا جو کام ہے وہ پانی ٹانکی سونیا گاندھی مارکیٹ کہ پاس کی 60 فٹی ڈی پی روڑ جو آزادی کہ بعد سے کسی لیڈر کارپوریٹر میئر کونسلر نے تیکنکی بنیاد نہیں بنا پائی تھی وہ عظیم کارنامہ بھی کارپوریٹر نعیم پٹیل کی کی کارپوریٹرشپ میں ہوئی جس سے عام لوگوں کیساتھ علی اکبر دواخانہ میں آنے والے مریضوں کو بڑی راحت ملی
No comments:
Post a Comment