Thursday, 23 September 2021

پرائیویٹ بجلی کمپنی کی من مانی اپنے عروج پر اور رویہ ظالمانہ

پرائیویٹ بجلی کمپنی کی من مانی اپنے عروج پر اور رویہ ظالمانہ
 مالیگاؤں :- مالیگاؤں پاور سپلائی لمیٹڈ فرنچائزیں کمپنی کی من مانی اور ناکامی حد سے زیادہ آگے بڑھ چکی ہیں بجلی کمپنی کو مالیگاؤں میں آئے تقریبا دو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور ایک سال پہلے سے ہی ان کی ٹیموں نے پورے شہر میں ہر ڈی پی ہر فیڈر کا لوڈ چیک کرنے کے بعد کمپنی نے ہینڈور لیا تھا آج انہیں تین سال کا عرصہ گزر چکا ہے پھر بھی کمپنی دیانےوڈگاؤں میں نئے کنکشن دینے سے قاصر ہیں کئی ڈی ٹی سی اور لوڈ ہیں کئی فیڈر اور kv33   لائن پر مینٹیننس کا کام پینڈنگ ہے ۔ ایک تار اور کیبل تبدیل کرنے کے لئے ان کو دو سے چھ گھنٹے لگتے ہیں ذرا سا بارش کیا ہو جائے کوئی بھی معاملہ ان کے کنٹرول میں نہیں ہوتا ان کی کمپنی میں سب سرٹیفائیڈ انجینئر ہونے کے باوجود پرابلم کو ڈھونڈنے میں گھنٹوں نکل جاتے ہیں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب جب نل کا وقت ہوتا ہے تب ہی بجلی غل ہو جاتی ہے اور نل کے ٹائم پورا ہو جانے کے بعد بجلی آجاتی ہے جس سے پورے شہر میں تکلیف ہے

 بجلی کمپنی اپنے بل کو وصول کرنے کے لئے کچھ غنڈے قسم کے لوگوں کا سہارا لے رہی ہے وصولی کرنے والے لوگ عام لوگوں کو ڈسکنیکشن کے ساتھ ساتھ کورٹ اور ایف آئی آر کی دھمکی دے کر وصولی کر رہے ہیں کنزیومرکو لاکھوں  روپے کی فالٹی بل دے کر ڈرا دھمکا کر بل وصول کیا جارہا ہے جو لوگ معلومات رکھتے ہیں وہ جا کر کے اپنی بل کو درست کروا کر کے بل بھر رہے ہیں۔ کئی ایسے کیس سامنے آئے ہیں جن میں کنزیومر سے فالٹی بلو کو جبر نابھروایا گیا ہے اور ان کے ہزاروں اور لاکھوں روپے پر ڈکیتی کی گئی ہے جو ریڈنگ انہوں نے جلایا ہی نہیں اس کا پیسہ ان سے وصول کیا گیا ہے پرائیویٹ بجلی کمپنی کا رونا  ہے کہ وصولی نہیں ہو رہی ہے  تھری فیس کنزیومر کو 55 پرسنٹ بجلی سبسڈی ملتی ہے وہ پرائیویٹ بجلی کمپنی کو پہلے ہی مل جاتی ہے کنزیومر بل بھرے یا نہ بھرے 55 پرسنٹ وصولی گورنمنٹ سے بجلی کمپنی کرلیتی ہے صرف پنتالیس 45% پرسنٹ ہی پاور لوم سے وصولی کرنی ہوتی ہے اور ان کی حکمت عملی کا کوئی جواب نہیں یہ لوگوں کو اوریج بل اور فالٹی بل دیکھ کر کنزیومر سے تو زیادہ بل وصول کرتے ہی ہیں ساتھ ہی گورنمنٹ کو بھی دھوکہ دیتے ہیں زیادہ بل اوریج بل دے کر کے گورنمنٹ سے بھی زیادہ سبسڈی وصول کرتے ہیں جو لوگ بل کو درست کروا لیتے ہیں وہ صحیح بل بھر دیتے ہیں جو درست نہیں کرواتے ان سے بھی زیادہ پیسہ وصولی کی جاتی ہے اور گورنمنٹ سے بھی زیادہ سبسیڈی وصول کی جاتی ہے

بجلی کمپنی کنزیومر کے جیب پر ڈاکا ڈالنے پر تولی ہے اور یج بل ریویزن B80 ڈالنے  کے لیے نئی نئی شرائط رکھی جا رہی ہے اور کئی کئی مہینوں بل درست نہیں کر رہے ہیں  ایک بد نصیبی کی بات یہ ہے کہ مالیگاؤں سینٹرل سے 80 پرسنٹ وصولی ہوتی ہے اور ان کا آفس ندی کے اُس پار ہے جبکہ افس ندی کے اِس پار ہونا چاہیے ہمارے لیڈران  خواب غفلت میں سوئے ہوئے ہیں یا پھر معاملہ کچھ اور ہے ان کے افسران کا نہ کچھ ٹائم ٹیبل ہے نہ کوئی آتہ پتہ جب من چاہے چھوٹی کر لیتے ہیں۔ اگر آفس میں ہوتے بھی ہیں تو ہر وقت میٹنگ بول کر کنزیومر کو بار بار دوڑاتے ہیں۔ ایسے میں کوئی بھی لیڈر  اس تعلق سے نمائندگی کرنے کے لیے نظر نہیں آتا اب اللہ بہتر جانتا ہے کہ معاملات کیا ہیں۔لیکن بجلی کمپنی جلد ہی اپنی غلطیوں اور خامیوں کو دروست  نہیں کرتی ہے تو ایسی صورت میں جلد ہی کمپنی کے خلاف اندولن شروع کیا جائے گا۔

عمیر انصاری سر جعفر نگر۔ سفیان انصاری ۔شفیق انٹی کرپشن۔افضال بھائی۔

2 comments:

  1. ماشاءاللّٰه بہت خوب الحمدللّٰه 👍🏼👍🏼

    ReplyDelete

  2. umer bhai bahut pareshani horahi haiماشاءاللہ

    ReplyDelete

आमदार फारूक शाह यांच्या विकास कामांचा धडाका सुरूच.

आमदार फारूक शाह यांच्या विकास कामांचा धडाका सुरूच. महानगरपालिका क्षेत्रात मुलभूत सोयी सुविधांचा विकास योजने अंतर्गत धुळे शहरासाठी ५ कोटी मंज...