جمہور کیمپس میں تقریبِ اجراء
شیرِ مہاراشٹر ساتھی نہال احمد صاحب
اس فانی دنیا میں کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی قوم و ملت کی امانت ہوتی ہے _ ان کی رحلت سے سماجی و معاشرتی زندگی میں ایک خلاء سا پیدا ہوتا ہے اور زمانہ مدتوں ان کی کمی کو محسوس کرتا ہے _ ایسی ہی ایک شخصیت مرحوم ساتھی نہال احمد صاحب کی ہے _
محترم قارئین کرام شہرِ عزیز ہی نہیں بلکہ قومی سطح پر اقلیتوں کے مسیحا و محافظ اور مشہور و معروف سیاسی قائد مرحوم ساتھی نہال احمد صاحب کی یاد میں 6 مارچ 2021 ء کو آل مالیگاؤں تقریری مقابلہ طلباء اور طالبات کے مابین جمہور کیمپس میں منعقد ہوا، اور 16 ستمبر کو مرحوم بلند اقبال صاحب کی دوسری برسی کے موقع پر مرحوم ساتھی نہال احمد صاحب اور مرحوم ساتھی بلند اقبال صاحب کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان بہترین تقریروں کو ایک کتابی شکل دی گئی _ انجمن تعلیمِ جمہور کے اہم رکن ایڈووکیٹ انصاری خلیل احمد صاحب اور اسٹیج پر تشریف فرما معزز مہمان کرام کے دست مبارک سے اس تقریری کتاب کا اجراء عمل میں آیا _ اس پُر رونق تقریب کی صدارت انجمن تعلیم جمہور کی صدر محترمہ ساجدہ نہال احمد صاحبہ نے فرمائیں _اپنے خطبہ صدارت میں محترمہ ساجدہ نہال احمد صاحبہ نے اپنے رشتے کے جذبات و احساسات اور اپنے درد و غم کو سامعین کے سامنے پیش کیا _ انہوں نے بتایا کہ نہال احمد صاحب نے کبھی بھی اپنے اصول اور ضمیر کا سودا نہیں کیا اور مجھے بھی سودا نہ کرنے کی سخت نصیحت کی _ وہ اس لیے کہ عوام کا درد وہی فرد سمجھ سکتا ہے جو اپنے ضمیر کو زندہ رکھتا ہے _ انہوں نے بلند اقبال صاحب کے تعلق سے کہا کہ بلند اقبال ایک حوصلہ مند و درد مند دل رکھنے والا انسان، اور فرمانبردار بیٹا تھا کہ َبسترِ مرگ پر بھی شہر کے اوپن اسپیس کو زمین مافیاؤں سے بچانے کے لیے اپنی آخری سانس تک فکر مند رہا_ ساتھ ہی صدر صاحبہ نے شریکانِ مجلس کو نصیحت کی کہ اس شہر کی سالمیت کو برقرار رکھیں اور اس کی ترقی کے لئے تعلیم یافتہ افراد آگے آئیں اور اپنا وقت ہی نہیں ضرورت پڑنے پر لہو بھی دیں_
بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر و ناظم غلام مصطفیٰ اثر صدیقی صاحب نے ایک دلکش نظم کے ذریعے اور اپنے مخصوص انداز میں مرحوم ساتھی نہال احمد صاحب کو خراج عقیدت پیش کیا _
انجمن کے اہم اراکین مستقیم ڈگنٹی صاحب ، ایڈووکیٹ انصاری خلیل صاحب، شاکر شیخ صاحب اور جنتا دل سیکولر کے ریاستی صدر محترم شرد پاٹل صاحب نے مرحوم ساتھی نہال احمد صاحب اور مرحوم بلند اقبال صاحب کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے زریں خیالات کا اظہار کیا _ مستقیم ڈگنٹی صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مخالفین بھی بلند اقبال کا احترام کیا کرتے تھے اور اتنی کم عمری میں مقبولیت حاصل کرنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ایک اعلیٰ سیاسی قائد تھے _اسسٹنٹ ہیڈ ماسٹر الطاف فاروق سر نے کتاب کے حوالے سے اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب ایک تاریخی دستاویز ہے اور آنے والی نئی نسلوں کی رہنمائی کا ذریعہ بنے گی _اس عظیم تقریب میں انجمن تعلیمِ جمہور کی سکریٹری محترمہ شانِ ہند صاحبہ جلوہ افروز تھیں اور ساتھ ہی رکنِ انجمن محترم امتیاز احمد صاحب، محترم شاہد فائن صاحب، اسکول کے کوآرڈینیٹر محترم فیضی محمد امین سر، محترم پرویز سر (ہیڈ ماسٹر ٹی ایم ہائی اسکول)، عبدالرشید سیٹھ صاحب ایولے والے، محترم عرفان صدیقی صاحب، محترم شکیل صادق سر ، محترم یحییٰ عبدالجبار صاحب، محترم عارف حسین صاحب (صدر یوا جنتا دل سیکولر)، محترم رضوان ربانی صاحب، محترم صغیر شمسی صاحب، محترم نہال غفران صاحب ، محترم انیس مستری صاحب موجود تھے _
اس با مقصد تقریب میں چراغ پری پرائمری و پرائمری اسکول کے ہیڈ مسٹریس و اسٹاف اور ٹی ایم ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کے ہیڈ ماسٹر و اسٹاف بنفس نفیس موجود تھے_
اس تقریب کا آغاز مشتاق ایم اے سر کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا _ تحریکِ صدارت جونیئر کالج کی معلمہ حنا میڈم اور تائیدِ صدارت زینت فرمان میڈم نے پیش کیں_ اغراض و مقاصد اسکول کے ہیڈ ماسٹر شاہد اختر صاحب نے فرمایا _ اسٹیج پر رونق افروز مہمانوں کا تعارف سینئر معلم عزیز الرحمٰن سر، اور ان کی خدمت میں ہیڈ ماسٹر شاہد اختر سر نے گل پیش کیا _ یاد رہے کہ اس کتاب کی ترتیب و پرنٹنگ کے لیے محترم فیضی محمد امین سر، محترم الطاف محفوظ الرحمٰن سر اور صدیقی اعجاز سر نے سخت محنت کی _ آفسیٹ ورک کی اہم ذمہ داری محترم اشفاق قریشی سر نے کی _ اس پُر وقار تقریب کی نظامت صدیقی اعجاز سر نے بحسن خوبی انجام دی اور سُپر وائزر اشفاق ایم ایس سی سر کے رسمِ شکریہ سے اس عظیم الشان تقریب کے اختتام کا اعلان کیا گیا _ اس عظیم الشان تقریب کے انتظام اور تقاریر کے مجموعہ کی طباعت مکمل طور پر جمہور ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کے ہیڈ ماسٹر محترم شاہد اختر صاحب کی سرپرستی و رہنمائی میں ہوا _
No comments:
Post a Comment