Thursday, 16 September 2021

جدید صحافت اور الیکٹرانک زرائع ابلاغ کو صحافتی اصول و ضوابط کا خیال رکھنا چاہیئےزبان و بیان کیساتھ امن و امان اور سماجی اخلاقیات کا بھی خیال رکھنا ہوگا

جدید صحافت اور الیکٹرانک زرائع ابلاغ کو صحافتی اصول و ضوابط کا خیال رکھنا چاہیئے

زبان و بیان کیساتھ امن و امان اور سماجی اخلاقیات کا بھی خیال رکھنا ہوگا
مالیگاوں (نامہ نگار) آج بروز بدھ 15 ستمبر کو دوپہر 12 بجے مقامی پولس کنٹرول روم سے متصل سنسواد ہال میں ایڈیشنل ایس پی چندر کانت کھنڈوی کی جانب سے الیکٹرانک میڈیا نمائندوں کی میٹنگ منعقد کی گئی ، جس میں صحافتی اصول و ضوابط پر روشنی ڈالتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی چندر کانت کھنڈوی نے سبھی نمائندوں کو مطلع کیا کہ صحافت شہر کیلئے کارآمد ہونا چاہیئے ، جدید صحافت کی وجہ سے لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال نہ بگڑے ، جسطرح اخبارات کا اندراج ہوتا ہے اسی طرح جدید میڈیا بھی سرکاری اندراج کروالیں ، صحافتی اصول و ضوابط کا خیال نہ رکھنے پر ایس ڈی ایم کے توسط سے باز پرس ہوسکتی ہے ۔ اس موقع پر منصور اکبر نے وضاحت کی کہ بیشتر جدید صحافی شہر ، ملک اور سماج کیلئے مثبت صحافت کررہے ہیں ۔ وہیں کچھ لوگوں میں تعلیم کا فقدان ، زبان ، بیان کے قوائد سے لاعلمی اور غیر معیاری نشریات کا معاملہ ہے ، دو لیڈران میں رنجش پیدا کرنا ، منفی بیانات کی اشاعت ، پیڈ نیوز ، غیر معتبر لوگوں کے ہاتھ میں بوم (مائیک) دے دینا ، شدت آمیز انٹرویو ، بلا تحقیق رقم ترازی ، محکمہ جاتی پروٹوکول کا خیال نہ رکھتے ہوئے تیسرے چوتھے درجے کے سرکاری ملازمین سے بیان لینا ، میڈیا پرسن ہونے کے نام پر رعب جمانا ، سرکاری آفیسران سے تلخ کلامی کرنا ، جملہ بندی ، تلفظ ، اردو گرامر ، مختلف زبانوں سے نا واقفیت ، علاقائی زبانوں کا استعمال ، خراب ہوتی اردو زبان ، ان تمام وجوہات کی بناء پر شہر کے اچھے لکھنے والے مستند اور تربیت یافتہ صحافی ماند پڑ رہے ہیں۔ وہیں صحافتی دیانتداری میں مالی مفاد کا دخل بھی بڑھتا جارہا ہے ۔ 

منصور اکبر نے جہاں اس موقع پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ شہر کے بیشتر اچھا لکھنے والے صحافی اور ان کے جدید زرائع ابلاغ ، یوٹیوب ، بلاگر ، ویب سائٹس ، ایپلیکیشن اور سوشل میڈیا ، گلوبلائزیشن کے حوالے سے سارے عالم میں اپنا مقام بنا رہے ہیں ، شہر کا جدید میڈیا میٹرو پولیٹن شہروں سے معاصرت حاصل کررہا ہے ۔ شہر کے اچھے ، سنجیدہ ، تعلیم یافتہ صحافی اپنی تخلیقات کے زریعے شہر کو جدید صحافت سے ہم آہنگ کررہے ہیں۔ وہیں اس بات پر بھی اظہار تاسف کیا گیا کہ کچھ یوٹیوبرس کی منفی حرکات سے شہر کا پورا جدید میڈیا بدنام ہورہا ہے ۔ سماج اور محکمہ بظاہر ایسے لوگوں کو جانتا ہے ، ضرورت اس بات کی ہے کہ شہر کا دینی ، سماجی ، علمی ، سیاسی و ادبی حلقہ غیر معتبر صحافیوں سے پرے ، اچھے سلجھے ہوئے مثبت صحافیوں سے روابط بنائیں۔ 

منصور اکبر نے رقت آمیز لہجے میں منفی صحافت کرنے والوں سے گزارش کی کہ خدارا اچھے صحافیوں کے زریعے پروان چڑھنے والی جدید صحافت کو مجروح نہ کریں ۔ کم وقت میں صحافی بن جانا کمال نہیں ، خود میں صحافتی شد بد بھی بڑھائیں۔ آج جسے دیکھو ، موبائیل کے زریعے یوٹیوب بنا کر صحافت میں کنجنکشن پیدا کررہا ہے ۔ ایسے میں برسوں سے صحافت کررہے افراد متاثر ہورہے ہیں ۔ وہیں جونیئرس ، سینئرس کی شفقت سے محروم ہیں ۔ اس دوری کیلئے صحافتی اصلاح ضروری ہے ، تاکہ ایک بہتر صحافتی معاشرہ تشکیل دیا جاسکے ، جس سے صحافت اپنے معیار کیساتھ ارتقاء کا سفر جاری رکھ سکے ۔ جدید صحافیوں کو سرکاری اندراج اور مستند ہونے کی طرف بھی دھیان دینا چاہیئے ، جسطرح اخبارات اور دیگر طباعتی زرائع ابلاغ ، سرکاری شرائط اور صحافتی اصولوں کے ماتحت ہوتے ہیں ۔ بیجا جدید میڈیا کی بھرمار سے تہذیب و ادب کا قدیم ورثاء یعنی اخبارات متاثر ہورہے ہیں ۔ فاسٹ نیوز شیئرنگ کے چکر میں غیر مکمل مواد پیش کردینا ، ویوز بڑھانے کی خاطر ہیجان انگیز عنوانات دینا ، چارمنگ کیلئے غیر مہذب اور غیر معتبر مواد کی نشریات جس سے جدید صحافت کی شاخ بنیاد سے قبل ہی ماند پڑ رہی ہے ۔ 

منصور اکبر نے وضاحت کی کہ میں شہر میں جدید شفاف میڈیا بڑھانا چاہتا ہوں ، منفی صحافت سے میرا کوئی تعلق نہیں ، وہیں آج انہوں نے نئے صحافیوں کیلئے ہمیشہ کارآمد ثابت ہونے والا الیکٹرانک میڈیا وہاٹس ایپ گروپ بھی بند کردیا اور اچھے لکھنے والے صحافیوں کو اپنے معیار کیساتھ صحافت میں متحرک ہونے کی گزارش کیساتھ عوام سے بھی اپیل کی کہ مثبت صحافت کیلئے معاون ثابت ہوں ۔ حکومت کوبھی چاہئیے کہ بڑھتے جدید صحافتی وسائل کو لیکر بھی قانون ترتیب دیا جائے ۔ تاکہ صحافتی اصولوں کی پامالی نہ ہوسکے ۔

(رپورٹ بائے داستان شہر ملٹی میڈیا)

No comments:

Post a Comment

आमदार फारूक शाह यांच्या विकास कामांचा धडाका सुरूच.

आमदार फारूक शाह यांच्या विकास कामांचा धडाका सुरूच. महानगरपालिका क्षेत्रात मुलभूत सोयी सुविधांचा विकास योजने अंतर्गत धुळे शहरासाठी ५ कोटी मंज...