Sunday, 12 September 2021

آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی آسان نکاح مہم کانتیجہ

آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی آسان نکاح مہم کانتیجہ
مزید تین مقامات پر سادگی کے ساتھ نکاح کا انعقاد
آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈاصلاحِ معاشرہ کمیٹی کی مہم ”آسان اور مسنون نکاح“ سے متاثر ہوکر سادگی کے ساتھ مسنون طریقے پر نکاح کے انعقاد کا سلسلہ دراز ہے،اسی سال مارچ کےمہینے میں ریاست مہاراشٹر میں اور اس کے بعد پورے ملک میں دس روزہ آسان اور مسنون نکاح مہم چلائی گئی،جس کے تحت جگہ جگہ کارنر میٹنگوں اور جلسوں کا انعقاد کرکے نکاح کو آسان کرنے اور بیجا رسوم ورواج کو ختم کرنے کے سلسلے میں لوگوں کی ذہن سازی کی گئی، چنانچہ مخلصانہ جذبے کے ساتھ منظم طور پر انجام دی گئی ان اصلاحی کوششوں کے مثبت اثرات ونتائج سامنے آئے اور مہاراشٹر سمیت ملک کےمختلف علاقوں میں درجنوں نکاح بغیر جہیز کےسادگی کے ساتھ ہوئے،اب بھی یہ سلسلہ دراز ہے،اسی مہینے میں مہاراشٹراور کرناٹک کے دو مقامات پر سادگی کے ساتھ نکاح کے انعقاد کی خبریں موصول ہوئیں جن کی تفصیلات حسب ذیل ہیں:
مورخہ 5؍ستمبر بروز اتوارکو سندھ کھیڑ راجہ(ضلع بلڈانہ )کے ساکن شیخ نعیم کے فرزند شیخ متین کا رشتہ وسیم خان (ساکن درگاہ محلہ جالنہ)کی دختر کے ساتھ طے پایا،چنانچہ شادی کی تاریخ طے کرنے کی غرض سے شیخ نعیم اپنے چند رشتے داروں کے ہمراہ وسیم خان کےگھر جالنہ پہنچے ،اس موقع پر یہ بات رکھی گئی کہ نکاح کی تاریخ طے کرنے کے بجائے آج ہی سادگی کے ساتھ نکاح کرلیاجائے،جس پر دونوں گھرانوں کے افراد نے باہمی مشورے کے بعد رضا مندی کا اظہارکیا ،چنانچہ اسی دن شیخ متین کا نکاح سادگی کے ساتھ پڑھادیا گیا،اس نکاح کی تقریب میں جناب آصف بھائی اور ان کے گروپ خدمت خلق کے ممبران کی کوششیں شامل رہیں،جنہوںنے دونوں ہی گھرانوں کے ذمہ داران کی ذہن سازی کی۔
مورخہ 9؍ستمبر بروز جمعرات کو جناب محمد ریاض الدین قریشی ولد خواجہ معین الدین قریشی مرحوم (ساکن جنواڑہ بیدرایمپلائے شاہین ادارہ جات بیدر،کرناٹک) نے انتہائی سادگی سےمحض پچاس افراد کی موجودگی میں مسجد عائشہؓ بیدر میں نکاح کیا۔اسی طرح انہوں نے ولیمہ مسنونہ کی تقریب بھی نہایت ہی سادگی انجام دی‘جس میں محض رشتہ داراور قریبی دوست احباب شریک ہوئے۔خاص بات یہ رہی کہ اس نکاح میں لڑکی والوں سے دولہا اور اس کے رشتہ داروں کے لیے دعوت طعام کامطالبہ بھی نہیں کیا گیا۔
  جناب شیخ متین اور جناب محمد ریاض الدین قریشی نے انتہائی سادگی سے تقریب نکاح اور ولیمہ مسنونہ کا انعقاد کر کے ایک عمدہ مثال قائم کی جو قابلِ ستائش و قابلِ تقلید ہے۔ نکاح کے موقع پر جناب محمدریاض الدین قریشی نے صحافیوں کو بتایا کہ نکاح، تقاضہ فطرت اور انسان کی بنیادی ضرورت کی تکمیل کا آسان اور حلال ذریعہ ہے؛جس طرح کھانا،پینا،پہننا،اوڑھنا انسان کی ضروریات میں شامل ہے، اسی طرح ایک عمر کو پہنچنے کے بعد نکاح کرنا بھی بشری زندگی کا لازمہ ہے،یہی وجہ ہے کہ اسلام نے نکاح کو آسان سے آسان طریقے پر پوری سادگی کے ساتھ انجام دینے کا حکم دیا ہے اوراس بات سے بھی آگاہ کردیا ہے کہ بابرکت نکاح وہی ہے جس میں خرچ کم سے کم ہو، افسوس کہ اسلام نے نکاح کو جتناآسان بنایا، ہمارے معاشرے نے اسے اتنا ہی مشکل بنا ڈالا،دو گواہوں کی موجودگی میں صرف ایجاب وقبول پر مشتمل نکاح کے اس بابرکت معاہدے پر ہم نے نت نئی رسموں اورفضول خرچیوں کا ایسا بوجھ ڈالا کہ ایک غریب؛ بلکہ متوسط آمدنی والے شخص کے لئے بھی وہ ایک نا قابل عبور پہاڑ بن کر رہ گیا۔فی زمانہ کوئی شخص اس وقت تک نکاح نہیں کرسکتا جب تک اس کے پاس کم از کم دو تین لاکھ روپئےموجود نہ ہوں۔یہ لاکھ دو لاکھ روپئے نکاح کی حقیقی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے نہیں؛بلکہ صرف فضول رسموں کا پیٹ بھرنے کے لئے درکار ہیں،جنہیں خرچ کرنے سے زندگی کی حقیقی ضروریات پوری کرنے میں کوئی مدد نہیں ملتی،اس لیےشادی بیاہ کےمعاملات میں اسراف کے بجائے بیٹیوں کو وراثت میں سے حصہ دینے کی کوشش کرنی چاہیے،بیجارسوم کا بوجھ دلہن والوں پر ہو نہ دولہے والوں پر،مہمان پر ہو نہ میزبان پر۔ تقریبات میں سادگی،متانت اور شائستگی کا پہلو نمایاں ہو،اسلامی ہدایات کا احترام کیا جائے تاکہ ایک ایسے معاشرے کے خواب کو حقیقت میں بدلاجاسکے جہاں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نیزان کے سر پرستوں کونکاح کے سلسلے میں پریشانیوں، اُلجھنوں اور ذہنی تناؤ کا سامنا نہ ہو۔
مورخہ10؍ستمبر بروز جمعہ دارالعلوم اشرفیہ راندیر کے استاذ حدیث مولانا مفتی کلیم صاحب لوہاروی (ساکن لوہارہ تعلقہ بالا پور ضلع آکولہ)اپنے فرزند مفتی عزیز الرحمن صاحب کی نسبت اورنگ آبادکے مفتی رفعت صاحب کی بیٹی کے ساتھ طے کرنے کی غرض سے اورنگ آبادپہنچےاور پھر باہمی مشورے سے وہیں پر سادگی کے ساتھ انہوں نے اپنے بیٹے کا نکاح کردیا۔
جب سے آسان اور مسنون نکاح مہم شروع کی گئی ہے لوگوں کی جانب سے یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ حضرات علمائے کرام اس سلسلے میں آسان اور مسنون طریقے پر نکاح منعقد کر کے عملی نمونہ بھی معاشرے کے سامنے پیش کریں،الحمدللّٰہ اس کا سلسلہ بھی جاری ہے،گزشتہ دنوں الہ آباد میں جمعیت علماء ہند میم کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب کے فرزند کا نکاح بھی انتہائی سادہ طریقے پر انجام پایا،نکاح کی یہ پوری کاروائی محض اٹھارہ منٹ میں مکمل ہوگئی۔اسی طرح دو ماہ قبل اصلاح معاشرہ کمیٹی اتر پردیش کے اہم رکن مولانا مہدی حسن عینی صاحب نے خود اپنا نکاح انتہائی سادگی کے ساتھ منعقد کیا تھااور اب مولانا مفتی کلیم صاحب لوہاروی نے اپنے فرزند مفتی عزیز الرحمن صاحب کا نکاح سادگی کے ساتھ انجام دے کر معاشرے کے سامنے عملی نمونہ پیش کیا ہے۔
مذکورہ تینوں مقامات پر سادگی کے ساتھ نکاح کے انعقاد کی خبریں جہاں حوصلہ افزا ہے وہیں اس بات کی علامت بھی کہ اگر شریعت پر عمل کا جذبہ ہو تو آج بھی سادگی کے ساتھ نکاح کا انعقاد دشوار نہیں،آنے والے دنوں میں اصلاح معاشرہ کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی جانب سے ملکی سطح پرآسان اور مسنون نکاح مہم دوبارہ چلائی جارہی ہے،امید ہے کہ اس مہم کے نتیجے میں اسی طرح کے مزید اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔وما ذلک علیﷲبعزیز

منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ

No comments:

Post a Comment

आमदार फारूक शाह यांच्या विकास कामांचा धडाका सुरूच.

आमदार फारूक शाह यांच्या विकास कामांचा धडाका सुरूच. महानगरपालिका क्षेत्रात मुलभूत सोयी सुविधांचा विकास योजने अंतर्गत धुळे शहरासाठी ५ कोटी मंज...