Wednesday, 1 September 2021

تعزیتی نشست کا انعقاد خراجِ تحسین کے ساتھ نسلِ نو کو تحریک دینا ہے

تعزیتی نشست کا انعقاد خراجِ تحسین کے ساتھ نسلِ نو کو تحریک دینا ہے
'انجمن ترقی اردو کی تعزیتی نشست'
مالیگاؤں :ماہ اگست نے شہر کی اردو فضا کو سوگوار کردیا ہے، اس مہینے کے ابتدائی ہفتے میں 'ادبِ اسلامی' کے اہم رکن صالح فکر و نظریات کے علمبردار ماہنامہ "جلیس"کے مدیر 'رائے حبیب الرحمان' اور اخیر ہفتے میں ماہنامہ" نشانات"،" نئے نشانات"، "ہم زبان" کے مدیر سلطان سبحانی صاحب داغِ مفارقت دے گئے جس سے شہر کی ادبی فضا سوگوار ہے اور آج ہم ان ہی دو ادیبوں کی یاد میں تعزیتی نشست میں جمع ہیں _ انجمن ترقی اردو ہند شاخ مالیگاؤں کی جانب سے منعقدہ اس تعزیتی نشست کا مقصد جہاں ان مرحومین کو خراجِ عقیدت پیش کرنا اور غمزدہ خاندان کو تعزیت مسنونہ پیش کرنا ہے وہیں ان کے علمی و ادبی کارناموں سے نسلِ نو کو متعارف کرانا ہے _ ان کلمات کا اظہار صدر نشست و صدر انجمن پروفیسر عبدالمجید صدیقی نے خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے کہا _ آپ نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے جہاں انجمن کی سرگرمیوں کا تزکرہ کیا وہیں سلطان سبحانی اور رائے حبیب الرحمان کی علمی ادبی خدمات کا اعتراف کیا _ قبل اس کے نشست کا آغاز یاسین اعظمی کی نظامت اور رضوان ربانی کی قرائت سے ہوا _ ابتداء میں خیال انصاری (سکریٹری انجمن) نے "تعزیتی پیغام" کی خواندگی کی اور ترقی پسند ادیب سلطان سبحانی اور صالح فکر و نظر کے ادیب رائے حبیب الرحمان کی ادبی خدمات کا اجمالی جائزہ پیش کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور اہلِ خانہ کو تسلی دی _ تاثرات کا سلسلہ ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی کی تاثراتی تقریر سے ہوا آپ نے مختصر اور جامع انداز میں دونوں صاحبان سے اپنے تعلق کو بیان کیا _ بلیک اینڈ وہائٹ کے مصنف طاہر انجم صدیقی نے سلطان سبحانی کو افسانوی ادب کا امام کے نام سے یاد کیا اور اعتراف کیا کہ سلیم شہزاد صاحب کا یہ کہنا کہ شہر میں صرف دیڑھ افسانہ نگار ہیں سچ ہے ایک افسانہ نگار سبحانی صاحب رہے اور آدھے میں شہر کے بقیہ افسانہ نگار ہیں _ ناظم تقریب یاسین اعظمی نے رائے حبیب الرحمن اور سلطان سبحانی سے اپنی ملاقاتوں اور ان سے ہونے والی گفتگو سے استفادے کا تزکرہ کیا _ رائے حبیب الرحمان کے نسبتی فرزند رفیق سر نے اپنے خسر محترم کی ذاتی صفات کے حوالے سے بہترین تحریر پیش کی _ مالیگاؤں شہر میں ادب اسلامی کی متحرک و محترم شخصیت لطیف عزیز صاحب نے ادب اسلامی میں رائے حبیب الرحمان کی قلمی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا _حال ہی میں ساوتری بائی پھلے پونا یونیورسٹی سے سلطان سبحانی کے فن اور شخصیت پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے ڈاکٹر مبین نذیر نے سبحانی صاحب کی شخصیت اور ان کے ادبی تعاون و رہنمائی کا تزکرہ کیا، معروف آرٹسٹ "رشید آرٹسٹ" نے سلطان سبحانی کو اردو دنیا کا سلطان قرار دیتے ہوئے ان کے قرطاس و قلم، رنگ برش اور کینواس کے فن پر گفتگو کی _ شبیر آصف نے' سلطان سبحانی کے تعلق سے چند باتیں' اس عنوان پر مضمون پیش کیا، ڈاکٹر الیاس وسیم صدیقی نے دونوں ہی ادیبوں کی شخصیت کی ذاتی خوبیوں کے ساتھ ان کے فنی و ادبی محاسن پیش کیے _ سلطان سبحانی کی دختر شگفتہ سبحانی نے اپنے والد کا تزکرہ کرتے ہوئے ادبی دنیا کے برتاؤ کا شکوہ کیا اور نام و نہاد ناقدین اور حکومتی ایوارڈ تفویض کرنے والوں کی بے اعتنائی کا شکوہ کیا _ ڈاکٹر اشفاق انجم صاحب نے اپنی بیباک گفتگو میں جہاں ادبی رویوں پر تنقید کی وہیں ان صاحبان نے ادب کے لیے اور اپنے لیے کیا کیا اس پر گفتگو کی _ ماہر لسانیات سلیم شہزاد نے دونوں ہی ادیبوں کے ماہنامہ رسائل نشانات، نئے نشانات، ہم زبان، جلیس کے آغاز سے بند ہونے تک ان کی جدوجہد اور پریشانیوں سے سامعین کو واقف کرایا، اخیر میں رضوان ربانی کے شکریہ اور خازن انجمن یعقوب ایوبی کی دعا پر تقریب کا اختتام ہوا _

No comments:

Post a Comment

आमदार फारूक शाह यांच्या विकास कामांचा धडाका सुरूच.

आमदार फारूक शाह यांच्या विकास कामांचा धडाका सुरूच. महानगरपालिका क्षेत्रात मुलभूत सोयी सुविधांचा विकास योजने अंतर्गत धुळे शहरासाठी ५ कोटी मंज...