الٰہی تو رکھنا سلامت اُنہیں
5 ستمبر یومِ اساتذہ پر کچھ بچپن کی یادیں
. عمران جمیل
قابلِ صد احترام، مشفق و مہربان، انتہائی عزیز و محترم میری پیاری جمیلہ آپا...!!! آخر کیا کہوں آپ کی ملنسار و انسانیت نواز شخصیت کے لئیے.سوئیس ماڈل پری پرائمری و پرائمری اسکول کے رنگ برنگے ڈھیر ساری قسموں کے کھلونوں سے بھرے کے - جی کےکمرہ جماعت سے میری جذباتی وابستگی شائد ویسی نہ بن پائی جو پہلی کلاس میں آپ کی مشفق و محترم گود سے، آپکے مشفقانہ برتاو سے ہوتی چلی گئی..ہاں آپا آپ ہی تو وہ پہلی ہستی ہیں کہ جس نے اُس معصوم سے چھوٹے سے بچے عمران کو باقاعدہ ا ب ت لکھنا سکھایا.. آپ ہی تو وہ پہلی ٹیچر تھیں جنہوں نے قلم اور سلیٹ کے ذریعے "علم و آگہی" کے رشتے کی بنیاد ڈالی...آخر آپ کے پاس ایسا کونسا جادو تھا کہ گھر کی یاد میں روتے بلکتے بچے آپ کے مشفقانہ برتاو سے ایک دم خاموش ہوجایا کرتے تھے...آپکی نرم گفتاری میں، آپ کے اپنائیت بھرے لمس میں، آپکی بے غرض محبت بھری مسکراہٹ میں کیوں مجھے ہمیشہ میری امی ہی یاد آتے رہے.. اتنے برسوں بعد بھی آخر میں کیوں آپ کے مشفقانہ برتاو کے طلسمی حصار سے باہر نہیں نکل سکا..نہ ہی آپ بہت فیشن ایبل تھے.. نہ ہی ڈگریوں کے انبار آپ کے نام ساتھ لگے تھے..آپ تو بہت ہی سادہ رکھ رکھاو کی ٹیچر تھے ناں..شعور جب علمی و اکتسابی پختگی کی جانب چل پڑا تب یہ بات سمجھ آئی کہ آپ وہ ٹیچر تھے کہ جنہوں نے ہم بچوں کو نہ صرف پڑھانے کی ذمہ داری احسن طریقے سے ادا کی بلکہ اُسی کے ساتھ ساتھ آپ نے ماضی کے ہم نونہالان کی جذباتی پرورش بھی کی- بناء "سگمنڈ فرائیڈ و ایریک اریکسن" کو پڑھے آپ نے بچوں کی نفسیات کو نہ صرف سمجھا تھا بلکہ موقع بہ موقع اپنے حسن سلوک اور مہربان رویے سے ہر بچے کو اپنی تعلیمی گود میں سمیٹے رکھا.آپ سمیت آپ جیسے بہت سارے اساتذہ کو اُن دنوں کسی ایجوکیشن آفیسر کی وزٹ سے زیادہ اپنے" ضمیر کی عدالت" کا خوف رہا کرتا تھا- تب ہی تو بناء کسی "اوپر کے آرڈر" کے آپ جیسی نیک، محنتی، ایماندار ٹیچرز بہت ساری ٹریننگ نہ لیکر بھی اپنے تدریسی فرائض کے تئیں انتہائی ذمہ دار رہیں.آپ کا احسان میں یقیناً کبھی بھی ادا نہیں کرسکوں گا. سچ میں بڑی مہربانی رہی آپکی..بہت شکریہ- سوم جماعت میں سلیٹ پر سفید قلم سے میرا سب سے پہلے سیب بنانا آپ کا حیرت و خوشی سے میری سلیٹ کو دیکھنا اور میرا چہرہ دیکھنا. ہاں میری عزیز و محترم قمر آپا آپکی اُن محبت بھری نظروں اور حوصلہ افزاء کلمات کو بھلا میں کیسے بُھلا سکتا ہوں..اُن دنوں اگر آپ دو رنگین کھریا دے کرمجھے شاباشی نہیں دئیے ہوتے تو آج اس عمران میں مصوری کی کوئی سمجھ ہی پیدا نہیں ہوسکتی تھی. جب بھی بیاض پر کسی بھی مضمون کے نئے سبق کے سوال وجوب لکھنے کی باری آے. چہارم جماعت کے عمران کے ڈیسک پر دوستوں کی بیاضوں کے ڈھیر لگ جایا کرتے تھے "عمران میری بھی ہیڈنگ ڈال دے نا" ہم جماعت ساتھیوں کے اسی ایک جملے کی مسلسل تکرار سے عزیز و محترم شاہدہ آپا !!! آپ کا مجھے اپنے ٹیبل کے پاس بلانا مجھ سے اُس شور کے بارے میں پوچھنا اور میری سُرخیوں والی بولڈ رائیٹنگ کو دیکھ کر سب کے سامنے مجھے تعریفی بول کہنا.ایسا لگتا ہے جیسے ابھی کل کی ہی بات ہو..شکر ہے اُن دنوں کوئی وہاٹس اپ نہیں تھا.ہوتا تو شائد آپ اُسی میں مگن ہم بچوں کی خداداد قابلیتوں کو شائد ہی دیکھ پاتے تھے..بہت شکریہ کہ آپ کے وہ قیمتی بول میری ہینڈ رائیٹنگ کو کتابت و خوش نویسی تک لے کر چلے گئے..اُردو میں لکھا گیا وہ ایک چھوٹا سا پیراگراف ہی تو تھا..بہت ہی محترم شفیق واسع سر!! آپ کو نہ جانے اُس میں ایسا کیا نظر آیا کہ دہم جماعت کے اُس عمران کو آپ نے ایک اعتماد کے ساتھ یقین دلایا کہ میں مستقبل میں اچھا لکھ سکتا ہوں..بہت شکریہ سر کہ بہت اچھا تو نہیں لیکن تھوڑا بہت ایسا لکھ لیتا ہوں کہ میرے لفظوں کی ترسیل دھڑکتے جذباتی دلوں تک ہو ہی جاتی ہے.آج کا یہ دن جسے یومِ اساتذہ کے نام سے جانا جاتا ہے..یہ محض ایک رسم سہی لیکن اسی بہانے ہم ماضی کی اُن بنیادوں میں چلے جاتے ہیں جہاں یہی معزز و محترم اساتذہ ہمیں نکھارنے میں بالکل نمایاں نظر آتے ہیں کہ جنکے شفقت بھرے رویوں سے، جن کی جوہر شناس نظروں سے مجھ جیسا کوتاہ علم بہت کچھ تو نہیں لیکن ایسا طالب علم ضرور بن سکا جسے تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت کی اہمیت کا بھی شدید پاس و لحاظ ہے.. اے مولاے کریم میرے معزز اساتذہ اکرام کو دونوں جہاں میں سُرخرو فرما...آمین یارب العالمین
عمران جمیل 9325229900
No comments:
Post a Comment