عائشہ نگر سویپر کالونی کی بھولی بھالی عوام اُن کے خود کےمکان توڑکر 11 ہزار کالونی میں بھیجنے کی گندی سیاست عائشہ نگر سویپر کالونی ایک سیاسی مدعا بنا دیا گیا ہے اپنے سیاسی، خوش کرنے کیلئے، اِس کالونی کے تمام لوگو نے کارپوریشن پر بھروسہ کر کے اپنی سالوں کی محنت کی کمائی سے اس مکان کو خریدا مگر کچھ کاپوریٹر عوام کو جھوٹی ہمدردی اور طرح طرح کا ڈربتارہے ہیں اگر کالونی کی ایسی حالت ہیں تو اِس کالونی کا اس حال کا ذمہ دار کون ہے ۔عوام سے اتنی ہمدردی ہے تو کارپوریشن پر 15 سالوں سے جو پارٹی اقتدار میں بیٹھی ہے کیا تم نے اُن سے پوچھ کے 1978 میو نسپلٹی کے دور میں کالونی بنی اس وقت سے لیکر آج 2021 تک بلڈنگ ریپیرنگ کتنی مرتبہ کی گئی اگر 2002 سے ہی حساب کیا جائے تو کروڑوں روپیہ بلڈنگ درستی کی حفاظت کے نام پر نکل چکا ہوگا،،تو پھر بلڈنگ کی ایسی حالت کیوں ہوگئی وہ فنڈ جو درستی کے نام پر نکالا گیا وہ کہا گیا اور بر سر اقتدار کالونی توڑ نے پر کیوں بضد ہے اِس درستی کے نام پر نکالا گیا فنڈ کہا گیا اس کی اعلی سطح پر جانچ ہو نا چاہیے
ازقلم محسن خان مبارک خان کارگزار صدر انجمن ترقی فلاح و بہبود دیانہ مالیگاؤں
No comments:
Post a Comment