Tuesday, 7 September 2021

میرے شہر مالیگاؤں کی عوام اس وقت آزمائش کی گھڑیوں سے گزر رہی ہے کے آخر بھروسہ کریں تو کریں کس پر

شہر کی بگڑتی ہوئی سیاسی صورتحال
جسے دیکھو مسیحائے قوم بنا پھرتا ہے

درکار اجالا ہے مگر مجھکو یہ ڈر ہے 

کر دے نہ کوئی روشنی بارود ملا کر

 از  قلم 
شیخ انیــــــس مــــــستری
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے 

میرے شہر مالیگاؤں کی عوام اس وقت آزمائش کی گھڑیوں سے گزر رہی ہے کے آخر بھروسہ کریں تو کریں کس پر 
شہر کے سیاسی لیڈران کی بات کہیں تو جسے دیکھو اپنے آپ کو مسیحائے قوم بتلاتے ہیں ۔۔۔ کوئی اپنے آپ کو خودساختہ نسلوں کا قائد کہتا ہیں , تو کوئی اپنے آپ کو قوم کا رہبر , اور نا جانے ان خود ساختہ مسیحائے قوم نے اپنے نام کے آگے کیسے کیسے القاب لگا رکھے ہیں , ایک جانب عوام تکلیفیں , تو دوسری جانب شہر کی بد سے بدترین تعمیری صورتحال اور اس کے بیچ میں اگر ان کے خود ساختہ بنے بیٹھے مسیحائے قوم کو ان کے چاہنے والے ان تعریب و توصیف میں نعرے بازی کریں یا اپنی تحریروں میں ان کو مسیحائے قوم بتلائے تو نعرہ سننے اور تحریر پڑھنے والوں کو شرمندگی محسوس ہونے لگتی ہیں , اور ذہین میں یہی سوال گردش کرتا ہے کہ آج یہ خودساختہ مسیحائے قوموں  (لیڈران) نے میرے شہر کی کیا حالت کردی ہے 
شہر میں مسائل کے انبار لگے ہیں , اور مصائب و مشکلات کے گھٹاٹوپ اندھیرں میں سرکرداں ہے , زندہ اور بیدار مغز قوم وہ ہوتی یے جو خود احتسابی کے ذریعے اپنی ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں کا جائزہ لے کر ان کی تلافی کا سامان کرتی ہے , اور اپنا کھویا ہوا دبدبہ ،  وقار , اور مقام بحال کرلیتی ہے جبکہ ناکام اور مردہ قوم وہ ہوتی ہے جو اپنی ناکامیوں , نامرادیوں  اور مصائب و آلام کا الزام دوسروں پر لگا کر خود رونا دھونا شروع کر دے , اور بے بس مجبور اور مظلوم بن کر ہاتھ پر ہاتھ دھر  کر بیٹھ جائے اور ایسی بے حس عوام کو,  خودساختہ بنے بیٹھے مسیحائے قوم اور زمانہ اپنے پاؤں تلے روند ڈالتا ہے , اور انھیں غلامی اور ذلت کی زنجیریں پہنا دیتا یے جبکہ زندہ جاوید عوام ایسے لیڈران کی مسیحائی قبول نہیں کرتے اور ان کی غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہوئے کامیابی و کامرانی کے زینے چڑھنے کیلئے کمربستہ ہوکر میدان عمل میں اتر آتے ہیں

قرآن حکیم کی سورة الرعد کی آیت نمبر 11 میں بھی اللہ رب العزت نے ایسی ہی قوم کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : 
بے شک اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا یہاں تک کے وہ لوگ اپنے آپ میں تبدیلی پیدا کر ڈالیں" ,
یہ شعر اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے 

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی 

نا ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کےبدلنے کا 

آج ہمارے شہر کے  موجودہ حالات اور شہر کے خودساختہ مسیحائے قوم جنھوں نے تعمیرو ترقی کے نام پر جھوٹ اور فریب کے جال میں پھنسا کر شہر کی عوام کو گمراہی کے دلدل میں ڈھکیل دیا جب جب عوامی انتخابات آتے ہیں اس سے پہلے یہ خودساختہ مسیحائے قوم شہریان کیلئے نت نئیے رنگ برنگی نئے جال بُنتے نظر آتے ہیں جب عوام ان کے جال میں پھنس گئی الکشن کا نتجہ حاصل ہوگیا پھر عوام کی مسیحائی بھول کر تمام رنگ برنگی الگ الگ جال ( جھنڈے) ایک ہوجاتے ہیں جن کو فرقہ پرست کہا جاتا ہے ان کو گلے لگا کر اقتدار کے مزے لئے جاتے ہے اور پھر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہوجاتا ہے اور اسی طریقے کے منظر نامے دیکھ دیکھ کر شہر کی عوام عاجز آچکی ہیں عوام کے نا چاہتے ہوئے بھی فرقہ پرست طاقتوں کے بل بوطے پر کارپوریشن کا اقتدار چھین لیا جاتا ہے اور پھر شروع ہوجاتا ہے شہر پر ٹھیکے داروں اور لٹیروں کا راج  ,, 
آج شہر کی عوام کو یہ بات دھیان رکھنا چاہئے کہ بیس برسوں میں کارپوریشن میں کن کن پارٹیوں نے فرقہ پرستوں کے ساتھ مل کر راج کیا ؟؟؟
اور کون کون سے لیڈران نے عوام سے دھوکہ بازی کی کن لیڈران کی کہنی اور کرنی میں فرق رہا ؟؟؟
اب شہریان کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا اور بدعنوانوں اور لٹیروں ٹھیکے داروں سے کارپوریشن کے اقتدار سے دور رکھنا ہوگا 
ابھی نہیں تو کبھی نہیں

No comments:

Post a Comment

आमदार फारूक शाह यांच्या विकास कामांचा धडाका सुरूच.

आमदार फारूक शाह यांच्या विकास कामांचा धडाका सुरूच. महानगरपालिका क्षेत्रात मुलभूत सोयी सुविधांचा विकास योजने अंतर्गत धुळे शहरासाठी ५ कोटी मंज...