10 ستمبر کو ہونے والے اجلاس کی مقبولیت سے گھبراکر مخالفین اوچھی حرکتوں پر آمادہ
مجلس کے سبز ہلالی پرچم تلے متحد ہونے میں ہی قوم کی سیاسی بقا ہے ۔ ڈاکٹر خالد پرویز
اسکول نمبر 8 اسلام آباد میں ریکارڈ توڑ تاریخ ساز میٹنگ
سابق میٸر عبدالمالک کی شرکت سے سیاسی گلیاریوں میں ہلچل
مالیگاٶں (6 ستمبر) ۔ مجلس اتحادالمسلمین کے ہونے والے عظیم الشان اجلاس کے چرچے جوں ہی زبان عام ہوٸے ۔ مخالفین کے خیموں میں گھبراہٹ طاری ہوگٸی ۔ اور وہ مخالفین اس عظیم الشان اجلاس کے کنوینر الحاج ڈاکٹر خالد پرویز کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے لگے ۔ اور انکے خلاف معصوم بچوں کی آڑ لے کر پولس اسٹیشن سے لے کر پولس کے اعلی آفیسران تک شکایت درج کروانے اور دس سے پندرہ دنوں تک اندر کردینے کی ناپاک سازش کی جانے لگی ۔ لیکن سچ ہمیشہ سچ ہوتا ہے ۔ ایک ویڈیو نے مخالفین کی ساری پلاننگ کو ناکام بنادیا ۔
اس طرح کے جملوں کا اظہار سابق میٸر عبدالمالک صاحب نے اسکول نمبر 8 میں منعقدہ ایک پرہجوم عوامی میٹنگ سے کیا ۔ یہاں پر پورا کمپاٶنڈ عوامی سروں سے کھچاکچ بھرا ہوا تھا ۔ لوگوں کی دیوانگی کا عالم یہ تھا کہ سینکڑوں لوگ اطراف کی گلیوں میں کھڑے نظر آٸے ۔
دبنگ لیڈر عبدالمالک نے ڈاکٹر خالد پرویز کی مجلس کے تٸیں محنتوں اور حالات حاضرہ کی مناسبت سے مجلس اتحادالمسلمین کو وقت کی ضرورت قرار دیا ۔ اور عام عوام کو مجلس اتحادالمسلمین سے جڑنے کی اپیل کی ۔
ان سے قبل بزرگ سیاستداں سرپرست و مربی مالیگاٶں کی سیاست کے کنگ میکر الحاج یونس عیسی صاحب نے ملک میں جاری فرقہ وارانہ حالات اور ہندو فرقہ پرستی اور انکے ناپاک عزاٸم بمشول قوم کی معصوم بچیوں کو بہلا پھسلا کر مرتد کرنے یکساں سول کوڈ اور شہریت ترمیمی بل دفعہ 370 کو مفصل بیان کرتے ہوٸے مجلس اتحادالمسلمین کے قومی صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی صاحب کی ہر موضوع پر قوم کی بے باک نماٸندگی کرنے کو بیان کیا ۔ اور کہا کہ پورے ملک میں مسلمان اور دبی کچلی اقلتیں مجلس اتحادالمسلمین کے نظریہ کو سمجھ کر بڑی تیزی سے مجلس سے جڑ رہی ہیں ۔
اس موقع پر کٸی اداروں اور سرکردہ شخصیات نے دبنگ میٸر عبدالمالک کے ہاتھوں مجلس میں شمولیت اختیار کی ۔ جن میں ابراھیم لالہ گروپ ، فیصل گروپ ، روہن گروپ باغ محمود قابل ذکر ہیں ۔
بشیر بھاٸی ساٸیکل والا کی صدارت اور ابراہیم سردار کی نظامت میں منعقدہ اس تاریخی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوٸے صدر شمالی مہاراشٹر الحاج ڈاکٹر خالد پرویز صاحب نے پرجوش خطاب کرتے ہوٸے کہا کہ ہم نے کٸی پارٹیوں کو آزمایا لیکن عزت اور مقام اور ذمہ داری مجلس اتحادالمسلمین نے ہمیں دی ۔ دیگر پارٹیاں مسلمانوں کے ساتھ یوز اینڈ تھرو کا معاملہ رکھتے ہیں ۔ ہماری ووٹ لے کر ہمیں ٹھینگا دکھا دیا جاتا ہے ۔ سنہرے وعدے کرکے ہمیں ٹھگ لیا جاتا ہے ۔ اور ایوانوں میں یہ نام نہاد سیکولر پارٹیوں نے ہمارے خلاف قوانین کی حمایت کرکے ہمیں سیاسی ، سماجی ، معاشی اور تعلیمی میدان میں بے وقعت کرنے کا کام کررہی ہیں ۔
ایسے حالات میں اگر قوم کے لیۓ کوٸی آواز اٹھاتا ہے تو صرف اور صرف ہمارے قومی صدر اسدالدین اویسی صاحب ہی ہیں ۔ لیکن جب جب ووٹ دینے کا وقت آتا ہے تو انہیں فرقہ پرست اور ایجنٹ نہ جانےکیا کیا کہا جاتا ہے ۔ آج ہمیں ستر سالہ روایتی فیصلوں کی دیوار توڑنے اور ایک مضبوط سیاسی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے ۔
آج کے حالات میں مجلس کے سبز ہلالی پرچم کے ساٸے میں آنا ہی سیاسی نجات کا سبب ہوگا ۔ مجلس ہی ملک کے مسلمانوں کا سیاسی مستقبل ہے ۔ ہم اس عظیم مقصد کو لے کر پورے شمالی مہاراشٹر میں محنت کررہے ہیں اور ضرورت پڑی تو نہ صرف مہاراشٹر بلکہ پورے ملک میں جاٸیں گے ۔
ڈاکٹر خالد پرویز نے پر جوش نعروں کے درمیان عوام کے جم غفیر سے 10 ستمبر کے ہونے والے مجلس اتحادالمسلمین کے اجلاس میں شرکت کی گذارش کرتے ہوٸے مجلس کے پیغام کو عام کرنے اپیل کی ۔
اس جلسہ نما میٹنگ میں پینٹر سلیم حسان ۔ حاجی یوسف عیسی اور دیگر مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ وہیں حاضرین میں لٸیق حاجی رضیہ نثار اقبال شیداٸی خورشید منیجر شمشو دودھ ولاے سراج شکاری پپو بھاٸی صدیقی ڈیگ والے اور راشد سپہ سالار وغیرہ موجود تھے ۔
قاٸدوسالارمجلس مالیگاٶں میڈیا سیل
No comments:
Post a Comment